آئی ایم ایف کا ریاستی اداروں میں کرپشن کے خطرات پر اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنی طویل انتظار کی جانے والی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے) میں پاکستان میں بدعنوانی کے مستقل چیلنجز کو اجاگر کیا ہے، جو ریاستی اداروں میں موجود نظام کی کمزوریوں سے پیدا ہوتے ہیں، شفافیت، انصاف اور دیانتداری میں بہتری کے لیے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوراً شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ کی اشاعت اگلے ماہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے 1.
جی سی ڈی اے میں چند بااثر سرکاری اداروں کو سرکاری ٹھیکوں میں دی جانے والی خصوصی رعایتیں ختم کرنے، اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے معاملات اور فیصلہ سازی میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت حدود کا تقاضا کیا گیا ہے، جن کے لیے زیادہ پارلیمانی نگرانی ضروری ہے اور اینٹی کرپشن اداروں کی تنظیمِ نو کی سفارش بھی کی گئی ہے، حکومت نے یہ رپورٹ اگست سے روک رکھی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک متحدہ موضوع یہ ہے کہ پالیسی سازی، اس پر عمل درآمد اور نگرانی میں شفافیت اور احتساب میں اضافہ کیا جائے، اس میں معلومات تک بہتر رسائی اور ریاستی و غیر ریاستی اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت بڑھانا شامل ہے تاکہ وہ گورننس اور معاشی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان، جی سی ڈی اے کی سفارشات کے مطابق گورننس، احتساب اور دیانتداری میں بہتری لاتا ہے تو اسے نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، پاکستان 5 سال کے دوران گورننس اصلاحات کا پیکج نافذ کر کے جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد اضافہ کر سکتا ہے۔
اہم شعبوں میں گورننس اور انسداد بدعنوانی، کاروباری ضابطہ کاری اور بیرونی تجارت کی ریگولیشن میں بہتری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ کرپشن کے خطرات سے نمٹنا پائیدار اصلاحات کے لیے ضروری ہے اور انسدادِ بدعنوانی کی کوششیں تب ہی مؤثر ہوتی ہیں جب گورننس کو مضبوط بنانے اور براہِ راست کرپشن سے نمٹنے کے اقدامات کو یکجا کیا جائے۔
اشاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ کرپشن پر کنٹرول کمزور ہوا ہے، جس سے عوامی اخراجات کی کارکردگی، محصولات کے حصول اور عدالتی نظام پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔
جی سی ڈی اے نے ریاستی افعال میں نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ پاکستان بجٹ سازی اور مالیاتی معلومات کی رپورٹنگ، سرکاری مالی و غیر مالی وسائل کے انتظام، خصوصاً ترقیاتی اخراجات، سرکاری خریداری اور ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی نگرانی میں موجود خامیوں کی وجہ سے کرپشن کے خطرات سے دوچار ہے۔
اس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کا ٹیکس نظام حد سے زیادہ پیچیدہ اور غیر شفاف ہے، جسے ایسے ٹیکس اور کسٹم ادارے چلاتے ہیں جن کی صلاحیت، انتظام اور نگرانی ناکافی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عدالتی شعبہ تنظیمی طور پر پیچیدہ ہے، معاہدوں پر عملدرآمد یا جائیداد کے حقوق کا تحفظ مؤثر طریقے سے نہیں کر سکتا، جس کی وجہ اس کی کارکردگی کے مسائل، فرسودہ قوانین اور ججوں اور عدالتی عملے کی دیانت داری سے متعلق خدشات ہیں۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری خریداریوں میں ریاستی اداروں (ایس او ایز) کو دی جانے والی ترجیحات، بشمول براہِ راست ٹھیکے دینے کی خصوصی دفعات ختم کی جائیں، 12 ماہ کے اندر تمام سرکاری لین دین کے لیے ای-گورننس پروکیورمنٹ کا استعمال لازمی بنایا جائے۔
رپورٹ میں ایس آئی ایف سی کی پہلی سالانہ رپورٹ فوراً تیار کرنے اور عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جس میں اس کے ذریعے کرائی گئی تمام سرمایہ کاریوں، دی گئی مراعات (ٹیکس، پالیسی، ضابطہ جاتی یا قانونی)، تفصیلی جواز اور نتائج شامل ہوں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس آئی ایف سی کے وسیع اور متنوع اختیارات کے پیش نظر ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے لیے واضح طریقۂ کار تیار کرے اور شفافیت بڑھائی جائے تاکہ مؤثر نگرانی اور احتساب ممکن ہو سکے۔
رپورٹ نے ایس آئی ایف سی کے قیام اور اس کے عملے کو فیصلوں میں حاصل استثنیٰ پر بھی سوالات اٹھائے، بتایا گیا کہ کونسل سرمایہ کاری اور نجکاری کی رفتار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے قانون میں ترمیم کے ذریعے قائم کی گئی، لیکن بی او آئی اب بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے خطرات کا مالیاتی کارکردگی پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے، دیگر عوامل کے باوجود پاکستان کا ٹیکس-جی ڈی پی تناسب کم اور گرتا ہوا ہے، جس کی اہم وجوہات ٹیکس نظام کی پیچیدگی، قواعد میں بار بار تبدیلی اور حکومت پر کم عوامی اعتماد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کے پاس عوامی وسائل کے استعمال میں وسیع صوابدیدی اختیارات موجود ہیں، کیونکہ بجٹ میں منظور شدہ رقوم اور اصل اخراجات میں بڑا فرق ہے، جب کہ بجٹ امور میں عوامی شفافیت اور پارلیمانی شمولیت محدود ہے۔
صوابدیدی رقوم زیادہ تر ان اضلاع کو دی جاتی ہیں، جن کی نمائندگی حکومت یا اعلیٰ بیوروکریسی کرتی ہے، جس سے سیاسی اثر و رسوخ کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس کا نتیجہ عوامی سرمایہ کاری پر کم منافع کی صورت میں نکلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری آئی ایم ایف جی سی ڈی اے کا مطالبہ رپورٹ میں کے خطرات کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم