Islam Times:
2026-07-24@01:38:52 GMT

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فورسز نے 37 برس میں 936 بچوں کو شہید کیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فورسز نے 37 برس میں 936 بچوں کو شہید کیا

رپورٹ میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیری بچوں کی حالت زار کی طرف توجہ دے اور بچوں کے عالمی دن پر مقبوضہ علاقے کے کمسنوں کے مصائب و مشکلات کو ہرگز نظر انداز نہ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ 37برسوں کے دوران 936  بچوں کو شہید کیا ہے۔ ذرائع کی جانب سے آج ”بچوں کے عالمی دن“ کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقے میں بھارت کے غیر قانونی قبضے اور فوجی جبر کا سب سے زیادہ شکار بچے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ 936 بچے ان 96ہزار4 سو 80 افراد میں شامل ہیں جو بھارتی فوجیوں، پیر املٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سکیورٹی فورس، اسپیشل آپریشن گروپ اور پولیس اہلکاروں نے یکم جنوری 1989ء سے اب تک شہید کیے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت سے مقبوضہ علاقے میں 1 لاکھ 8 ہزار 7 بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ جنازے کے جلوسوں اور پرامن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ، مہلک پیلٹ چھروں کے استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ سے ہزاروں بچے زخمی ہوئے ہیں اور سینکڑوں بصارت سے محروم ہوئے ہیں۔

متاثرین میں 19 ماہ کی حبا جان، 4 سالہ زہرہ مجید، 8 سالہ آصف رشید، 8 سالہ اویس احمد، 10 سالہ آصف احمد شیخ اور 13 سالہ میر عرفات جیسے کم عمر بچے شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے جزوی اور کچھ مکمل طور پر اپنی بصارت کھو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارتی فورسز اہلکاروں نے گرفتار کیے جانے والے ہزاروں کشمیریوں میں سکول جانے والے بچے بھی شامل ہیں، مقبوضہ علاقے کے یہ کمسن بچے اپنے والدین پر تشدد اور جبر کے مختلف ہتھکنڈوں کے سبب زندگی بھر کے لیے صدمے کا شکار ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت تین درجن سے زائد کشمیری مائیں اس وقت جیلوں میں قید ہیں جن کے بچے انکی گھر واپسی کے منتظر ہیں۔

30 مارچ 2025ء کو بھارتی فورسز اہلکاروں ضلع کٹھوعہ کے علاقے جاکھول میں زیر حراست محمد لطیف ولد میر محمد کے گھر سے 15 اور 17 سال کی دو کمسن لڑکیوں اور ایک خاتون کو من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا۔ 18 نومبر 2025 ء کو بھارتی فورسز نے شہزادہ اختر اور ان کے شوہر ڈاکٹر عمر فاروق بھٹ کو سری نگر کے علاقے شیرین باغ میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران کالے قانونی ”یواے اے پی اے“ کے تحت گرفتار کیا، جس سے ان کے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیری بچوں کی حالت زار کی طرف توجہ دے اور بچوں کے عالمی دن پر مقبوضہ علاقے کے کمسنوں کے مصائب و مشکلات کو ہرگز نظر انداز نہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مقبوضہ علاقے بھارتی فورسز رپورٹ میں کے دوران گیا کہ

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق