data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مقبوضہ فلسطین سے دریافت ہونے والا 4300 سال پرانا چاندی کا پیالہ انسانی تخیل اور کائنات کے قدیم تصور کی شاندار عکاسی کرتا ہے۔

یہ تاریخی برتن جسے ’’عین سامیہ کپ‘‘ کا نام دیا گیا، 1970 میں جوڈائن ہِل میں واقع ایک قدیم مقبرے سے دریافت ہوا۔ اس برتن کا تعلق کانسی کے دور کے وسط یعنی 2650 قبلِ مسیح سے 1950 قبلِ مسیح کے زمانے سے ہے، جب فلسطین کے اس علاقے میں خانہ بدوش آبادیاں موجود تھیں۔

تقریباً تین انچ کے اس پیالے پر فنکارانہ نقش و نگار کندہ کیے گئے ہیں، جن میں ایک نصف انسان اور نصف جانور کی شبیہ بھی شامل ہے جو اپنے ہاتھ میں پودا اٹھائے ہوئے ہے، ساتھ ہی فلکیاتی علامات اور برتن پر سانپ اور پراسرار روشنی کی تصاویر بھی کندہ ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر جنوبی میسوپوٹیمیا میں ڈیزائن کیا گیا اور چاندی شام یا موجودہ عراق سے اس علاقے لائی گئی ہوگی۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس پیالے پر موجود نقش و نگار کائنات کے ابتدائی تصور کی سب سے قدیم عکاسی ہیں، جو قبلِ از تخلیق انتشار سے کائنات کی نئی ترتیب اور نظام کی جانب منتقلی کو بیان کرتے ہیں۔ اس دریافت نے قدیم انسان کی فلکیاتی تفہیم اور فنکارانہ بصیرت کی ایک نئی جھلک فراہم کی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا