مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی گاڑی نے مسلم خاتون کو کچل دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بڈگام(ویب ڈیسک) قابض بھارتی فوج نے مسلم نسل کشی کے لیے نیا طریقہ ایجاد کرلیا
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کبھی سرچ آپریشن کے نام پر تو کبھی اپنی تیز رفتار اور بے قابو گاڑیوں کے ذریعے مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع بڈگام میں بھارتی فوج کی تیز رفتار گاڑی نے راہ چلتی خاتون کو کچل دیا۔
خاتون شدید زخمی ہوگئیں جنھیں بھارتی فوج کے اہلکار موت کے منہ میں جاتا دیکھ کر بھی سڑک پر سسکتا چھوڑ گئے۔
عینی شاہدین کے بقول جائے حادثہ پر موجود شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خاتون کو اسپتال منتقل جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
خاتون کی شناخت 32 سالہ ثوبیہ جان کے نام سے ہوئی جو سری نگر کی رہائشی ہیں اور کسی کام سے بڈگام آئی تھیں۔
مسلم خاتون کی لاش گھر پہنچی تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔ نماز جنازہ میں مقامی حریت رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
تدفین کے بعد علاقہ مکینوں نے قابض بھارتی فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
یاد رہے کہ مودی سرکار نے سیاہ قانون کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بطور وفاقی اکائی ضم کرکے پورے کشمیر کو قید خانے میں تبدیل کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی فوج
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔