امریکی جج نے پاکستانی نژاد امریکی خاتون اور کراچی کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کی رکن کہکشاں حیدر خان کو ایف بی آئی کو جھوٹے بیانات دینے کے جرم میں 8 سال (96 ماہ) قید کی سزا سنا دی ہے۔

ٹیکساس میں امریکی اٹارنی آفس کے مطابق، 54 سالہ کہکشاں خان نے 2023 میں کراچی کے 2 گیس اسٹیشنوں پر آگ لگانے کی منصوبہ بندی سے متعلق جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا۔ انہیں امریکی ڈسٹرکٹ جج اییموس ایل میزانٹ نے 7 اکتوبر کو سزا سنائی۔

جھوٹے بیانات اور دہشتگردی کے منصوبے

رپورٹ کے مطابق، کہکشاں خان نے ایف بی آئی کے ایجنٹس سے جھوٹ بولا کہ وہ اس منصوبے میں ملوث نہیں تھی۔ حقیقت میں، وہ پاکستان میں ’دہشتگرد کارروائیوں‘ کے لیے رقم اکٹھا کرتی اور پیسے بھیجتی، اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے سہولت فراہم کرتی تھی۔

امریکی اٹارنی جے آر کامبز نے کہا ’ہم امریکا کو بیرون ملک دہشتگرد حملوں کے لیے بنیاد بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکی مفادات کا تحفظ ہر کام میں ہماری ترجیح ہے، اور ہم ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے جو غلط طور پر یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکا میں محفوظ رہ کر دنیا کے دیگر حصوں میں جرائم کر سکتے ہیں۔‘

ایف بی آئی ڈلاس کے خصوصی ایجنٹ آر جوزف روتھراک نے کہا ’ایف بی آئی ان افراد کی سختی سے تفتیش کرے گی جو دہشتگردی کی حمایت میں تشدد کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہم ان جرائم کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملزمان کو جوابدہ بنائیں گے۔‘

رپورٹ کے مطابق، کہکشاں خان نے 2023 میں ایک شخص کو بھرتی کیا تاکہ کراچی میں 2 پنجابیوں کی ملکیت گیس اسٹیشنوں پر آگ لگائی جا سکے۔ اس نے اپنے شریک کار کے ساتھ ہدف کے انتخاب، آتش گیر مواد کے انتخاب اور فرار کے طریقوں پر بات کی، نیز حملے کے لیے 2 فائرنگ ہتھیار خریدنے کا بندوبست بھی کیا۔

کہکشاں خان نے امریکا میں MQM کے حامیوں سے رقم جمع کر کے پاکستان بھیجی تاکہ ان حملوں کے اخراجات ادا کیے جا سکیں۔ شریک کار نے 20 فروری 2023 کو کراچی میں آگ لگانے کے بعد خبریں اور تصاویر بھیجیں، جس میں 6 افراد جھلس گئے تھے۔ کہکشاں خان نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ شریک کار کو اس کام کے لیے ’زبردست انعام‘ دیا جائے گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ تصاویر 2022 کی ہیں، جس پر کہکشاں خان شدید ناراض ہوئی۔

Kahkashan Haider Khan, a Frisco resident who acted as a recruiter and facilitator for the Mujahir Qaumi Movement (MQM), has been sentenced to 8 years in federal prison for making false statements related to international terrorism.

 Read the press release here:… pic.twitter.com/yUV4sIhqr0

— FBI Dallas (@FBIDallas) November 17, 2025

ایف بی آئی کے سامنے اعتراف

فروری 2024 میں ایف بی آئی نے کہکشاں خان سے ان کے گھر پر اس واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اس دوران کہکشاں  خان نے کئی جھوٹے بیانات دیے اور اپنے کردار سے انکار کیا، مگر بعد میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

فروری 2025 میں اپنی اعترافی سماعت کے دوران کہکشاں خان نے اعتراف کیا کہ یہ جھوٹے بیانات جان بوجھ کر دیے گئے تھے اور یہ دہشتگردی کی تحقیقات کے لیے اہم تھے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ

کہکشاں خان پہلے بھی پاکستان میں خبروں میں رہ چکی ہیں۔ مارچ 2021 میں رینجرز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے ان پر الزام لگایا کہ وہ کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے لیے ہلاکت خیز منصوبے تیار کر رہی تھیں۔ CTD کے مطابق، خان نے بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW اور سندھی و بلوچ مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر ٹارگٹ کلر گروہ قائم کیے تاکہ پولیس اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

 کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عمر شاہد حمید اور رینجرز کے کرنل شبیر نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں ایک خاتون ایک نامعلوم ہٹ مین کو ہدایات دیتے ہوئے نظر آ رہی ہے اور قتل کی کامیابی پر انعام دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔

ویڈیو میں خاتون ہٹ مین کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ اپنے ہدف کو ’اپنا پیار بھیجے‘ اور قتل کی تصدیق دے، ساتھ ہی کہتی ہے کہ ’ہماری زندگی اسی پر منحصر ہے۔‘

ویڈیو میں وہ ہٹ مین کے لیے ادائیگی کے طریقے، اس کی حفاظت اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ قتل کے بعد اسے بیرون ملک لے جایا جائے گا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل حمید اور کرنل شبیر نے خاتون کی شناخت کہکشاں حیدر کے طور پر کی، جو امریکا میں مقیم ایم کیو ایم لندن کی کارکن ہیں۔ ڈی آئی جی حمید کے مطابق، وہ 1990 کی دہائی سے ٹیکساس میں مقیم ہیں اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی قریبی معاون رہی ہیں۔

ڈی آئی جی حمید نے بتایا کہ ’ایم کیو ایم  کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی رکن، کہکشاں حیدر، نے ہٹ مین گروپ قائم کیے ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور پاکستان مخالف سندھی و بلوچ گروہوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر کراچی میں۔‘

کرنل شبیر نے کہا کہ ان کے ہدف ایسے افراد تھے جن کی موت شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ڈی آئی جی حمید نے مزید بتایا کہ دیگر ہدف شہر کے سیاستدان تھے، تاہم انہوں نے ان کی شناخت کو ’سیکیورٹی خدشات‘ کے باعث ظاہر نہیں کیا۔

ڈی آئی جی حمید کے مطابق یہ منصوبہ کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں سے گرفتار ہونے والے مبینہ ایم کیو ایم ہٹ مین کے انٹرویوز کے دوران سامنے آیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ہدف کے لیے قتل کی ٹیمیں دوبارہ تشکیل دی گئی ہیں اور ان کی سرپرستی کہکشاں حیدر کر رہی ہیں۔ اس وقت  کہکشاں خان نے یہ الزامات مسترد کیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی عدالت ایف بی آئی ایم کیو ایم کہکشاں حیدر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی عدالت ایف بی ا ئی ایم کیو ایم کہکشاں حیدر ڈی ا ئی جی حمید کہکشاں خان نے جھوٹے بیانات کہکشاں حیدر ایم کیو ایم امریکا میں ایف بی آئی کراچی میں کے مطابق کے ساتھ ہیں اور کے لیے ہٹ مین ایم کی

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار