ایم کیو ایم کی خاتون رکن کہکشاں خان کو امریکا میں 8 سال قید کی سزا، جرم کیا تھا؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکی جج نے پاکستانی نژاد امریکی خاتون اور کراچی کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کی رکن کہکشاں حیدر خان کو ایف بی آئی کو جھوٹے بیانات دینے کے جرم میں 8 سال (96 ماہ) قید کی سزا سنا دی ہے۔
ٹیکساس میں امریکی اٹارنی آفس کے مطابق، 54 سالہ کہکشاں خان نے 2023 میں کراچی کے 2 گیس اسٹیشنوں پر آگ لگانے کی منصوبہ بندی سے متعلق جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا۔ انہیں امریکی ڈسٹرکٹ جج اییموس ایل میزانٹ نے 7 اکتوبر کو سزا سنائی۔
جھوٹے بیانات اور دہشتگردی کے منصوبےرپورٹ کے مطابق، کہکشاں خان نے ایف بی آئی کے ایجنٹس سے جھوٹ بولا کہ وہ اس منصوبے میں ملوث نہیں تھی۔ حقیقت میں، وہ پاکستان میں ’دہشتگرد کارروائیوں‘ کے لیے رقم اکٹھا کرتی اور پیسے بھیجتی، اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے سہولت فراہم کرتی تھی۔
امریکی اٹارنی جے آر کامبز نے کہا ’ہم امریکا کو بیرون ملک دہشتگرد حملوں کے لیے بنیاد بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکی مفادات کا تحفظ ہر کام میں ہماری ترجیح ہے، اور ہم ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے جو غلط طور پر یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکا میں محفوظ رہ کر دنیا کے دیگر حصوں میں جرائم کر سکتے ہیں۔‘
ایف بی آئی ڈلاس کے خصوصی ایجنٹ آر جوزف روتھراک نے کہا ’ایف بی آئی ان افراد کی سختی سے تفتیش کرے گی جو دہشتگردی کی حمایت میں تشدد کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہم ان جرائم کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملزمان کو جوابدہ بنائیں گے۔‘
رپورٹ کے مطابق، کہکشاں خان نے 2023 میں ایک شخص کو بھرتی کیا تاکہ کراچی میں 2 پنجابیوں کی ملکیت گیس اسٹیشنوں پر آگ لگائی جا سکے۔ اس نے اپنے شریک کار کے ساتھ ہدف کے انتخاب، آتش گیر مواد کے انتخاب اور فرار کے طریقوں پر بات کی، نیز حملے کے لیے 2 فائرنگ ہتھیار خریدنے کا بندوبست بھی کیا۔
کہکشاں خان نے امریکا میں MQM کے حامیوں سے رقم جمع کر کے پاکستان بھیجی تاکہ ان حملوں کے اخراجات ادا کیے جا سکیں۔ شریک کار نے 20 فروری 2023 کو کراچی میں آگ لگانے کے بعد خبریں اور تصاویر بھیجیں، جس میں 6 افراد جھلس گئے تھے۔ کہکشاں خان نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ شریک کار کو اس کام کے لیے ’زبردست انعام‘ دیا جائے گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ تصاویر 2022 کی ہیں، جس پر کہکشاں خان شدید ناراض ہوئی۔
Kahkashan Haider Khan, a Frisco resident who acted as a recruiter and facilitator for the Mujahir Qaumi Movement (MQM), has been sentenced to 8 years in federal prison for making false statements related to international terrorism.
— FBI Dallas (@FBIDallas) November 17, 2025
ایف بی آئی کے سامنے اعتراففروری 2024 میں ایف بی آئی نے کہکشاں خان سے ان کے گھر پر اس واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اس دوران کہکشاں خان نے کئی جھوٹے بیانات دیے اور اپنے کردار سے انکار کیا، مگر بعد میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
فروری 2025 میں اپنی اعترافی سماعت کے دوران کہکشاں خان نے اعتراف کیا کہ یہ جھوٹے بیانات جان بوجھ کر دیے گئے تھے اور یہ دہشتگردی کی تحقیقات کے لیے اہم تھے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹکہکشاں خان پہلے بھی پاکستان میں خبروں میں رہ چکی ہیں۔ مارچ 2021 میں رینجرز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے ان پر الزام لگایا کہ وہ کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے لیے ہلاکت خیز منصوبے تیار کر رہی تھیں۔ CTD کے مطابق، خان نے بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW اور سندھی و بلوچ مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر ٹارگٹ کلر گروہ قائم کیے تاکہ پولیس اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عمر شاہد حمید اور رینجرز کے کرنل شبیر نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں ایک خاتون ایک نامعلوم ہٹ مین کو ہدایات دیتے ہوئے نظر آ رہی ہے اور قتل کی کامیابی پر انعام دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔
ویڈیو میں خاتون ہٹ مین کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ اپنے ہدف کو ’اپنا پیار بھیجے‘ اور قتل کی تصدیق دے، ساتھ ہی کہتی ہے کہ ’ہماری زندگی اسی پر منحصر ہے۔‘
ویڈیو میں وہ ہٹ مین کے لیے ادائیگی کے طریقے، اس کی حفاظت اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ قتل کے بعد اسے بیرون ملک لے جایا جائے گا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل حمید اور کرنل شبیر نے خاتون کی شناخت کہکشاں حیدر کے طور پر کی، جو امریکا میں مقیم ایم کیو ایم لندن کی کارکن ہیں۔ ڈی آئی جی حمید کے مطابق، وہ 1990 کی دہائی سے ٹیکساس میں مقیم ہیں اور ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی قریبی معاون رہی ہیں۔
ڈی آئی جی حمید نے بتایا کہ ’ایم کیو ایم کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی رکن، کہکشاں حیدر، نے ہٹ مین گروپ قائم کیے ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور پاکستان مخالف سندھی و بلوچ گروہوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے، خاص طور پر کراچی میں۔‘
کرنل شبیر نے کہا کہ ان کے ہدف ایسے افراد تھے جن کی موت شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ڈی آئی جی حمید نے مزید بتایا کہ دیگر ہدف شہر کے سیاستدان تھے، تاہم انہوں نے ان کی شناخت کو ’سیکیورٹی خدشات‘ کے باعث ظاہر نہیں کیا۔
ڈی آئی جی حمید کے مطابق یہ منصوبہ کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں سے گرفتار ہونے والے مبینہ ایم کیو ایم ہٹ مین کے انٹرویوز کے دوران سامنے آیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ہدف کے لیے قتل کی ٹیمیں دوبارہ تشکیل دی گئی ہیں اور ان کی سرپرستی کہکشاں حیدر کر رہی ہیں۔ اس وقت کہکشاں خان نے یہ الزامات مسترد کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی عدالت ایف بی آئی ایم کیو ایم کہکشاں حیدر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی عدالت ایف بی ا ئی ایم کیو ایم کہکشاں حیدر ڈی ا ئی جی حمید کہکشاں خان نے جھوٹے بیانات کہکشاں حیدر ایم کیو ایم امریکا میں ایف بی آئی کراچی میں کے مطابق کے ساتھ ہیں اور کے لیے ہٹ مین ایم کی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔