کراچی: ضلع جنوبی میں غیرقانونی پورشنز اور اضافی فلورز کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
کراچی کے ضلع جنوبی میں غیرقانونی پورشنز اور اضافی فلورز کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ضلع جنوبی نے تمام سرکاری رجسٹرار اور بلڈرز کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ لیاری، گارڈن، اولڈ سٹی اور کلفٹن میں غیرقانونی تعمیرات کی سرگرمیاں باعث تشویش ہیں۔ متعدد رئیل اسٹیٹ ایجنٹس غیرقانونی پورشنز بیچنے اور مارکیٹنگ میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام رجسٹرارز کو حکم ہے کہ غیرقانونی فلورز اور پورشنز کی کوئی رجسٹری قبول نہ کریں۔ غیر قانونی پراپرٹیز کی رجسٹری یا سب لیز کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی کہا کہ ضلع ساؤتھ میں ناجائز تعمیرات کے خلاف وسیع پیمانے پر فوری کریک ڈاؤن شروع کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔