حیدرآباد انتظامیہ کی ریشم بازار میں غیرقانونی سڑک کٹائی کی خلاف ورزیوں پر کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد انتظامیہ نے ریشم بازار میں غیر قانونی سڑک کٹائی کی خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام تر سرگرمیاں بند کرادیں۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی بابر صالح راہوپوتو اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سٹی کی قیادت میں کی گئی مشترکہ کارروائی میں غیرقانونی تعمیراتی کام فوراً روکوا دیے گئے اور ملوث افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر بابر صالح راہوپوتو نے عملے کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتظامیہ نے شہری انفراسٹرکچر کو غیرقانونی نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ عمل حیدرآباد انتظامیہ کی ان خلاف ورزیوں کے خلاف صفائی کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور قوانین کی بالادستی قائم رکھنا ہے۔ ذمہ دار حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیرمجاز سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔