سندھ بلڈنگ ،ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹوں پر غیرقانونی کمرشل تعمیرات
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی مافیا کو کھلی چھوٹ ،رہائشیوں میں شدید بے چینی
پلاٹ نمبر 40شیٹ نمبر 5پر SRB ہائٹس نامی غیرقانونی تجارتی مرکز ، صورتحال گمبھیر
ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی مافیا کو دی گئی چھوٹ کے باعث رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹس کی غیرقانونی تعمیرات نے نہ صرف علاقے کے اصل نقشے کو مسخ کر دیا ہے بلکہ رہائشیوں کی زندگیاں بھی مشکل بنا دی ہیں۔ خصوصاً پلاٹ نمبر 40شیٹ نمبر 5 SRBہائٹس نامی تجارتی مرکز نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے ۔جرات سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی احمد خان نے شکایت کی ہے کہ’’ہمارے علاقے میں ہر دوسرا مکان تجارتی اڈے میں تبدیل ہو رہا ہے۔یہاں پر بننے والے تجارتی مراکز نے ٹریفک کا مسئلہ اور بھی بڑھا دیا ہے ۔صبح و شام گاڑیوں کے ہارن اور شور کی وجہ سے پر سکون زندگی تعطل کا شکار ہے ۔’’اطلاعات کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر تعمیر کردہ عمارت میں متعدد تجارتی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جو واضح طور پر رہائشی زون میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندی کی خلاف ورزی ہے ۔شہری حلقوں کا وزیر بلدیات سے مطالبہ ہے کہ ماڈل کالونی میں ہونے والی ان غیرقانونی تعمیرات پر فوری پابندی عائد کی جائے اور تمام خلاف ورزیوں کے خلاف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مقدمات درج کروائے۔ عوام کا اصرار ہے کہ شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کراچی کے رہائشی علاقوں کو تجارتی استعمال سے بچایا جائے ۔اور ملوث افراد کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔