وفاقی آئینی عدالت: کراچی میں عوامی پارکس کے تجارتی استعمال پر سندھ ہائیکورٹ کا حکم معطل
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے عوامی پارکس کے کھیلوں کے لیے تجارتی مقاصد کے استعمال کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ یہ معاملہ کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے اختیارات سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دی
کے ایم سی نے 26 اگست 2025 کو کراچی کے 9 عوامی پارکس کو کمرشل مقاصد کے لیے سپورٹس سرگرمیوں میں استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔
درخواست گزاران نے کے ایم سی کے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں رجوع کیا، جس نے KMC کے اقدام کو کالعدم قرار دیا۔ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف KMC نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔
وکیل کے ایم سی نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے وقت فریقین کو سننے کا موقع نہیں دیا، جو آرٹیکل 10A کی خلاف ورزی ہے، اور کہا کہ ہائیکورٹ ازخونوٹس نہیں لے سکتی۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: 2 نئے ججز جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے حلف اٹھا لیا
آئینی عدالت نے اس معاملے کو مفاد عامہ کا کیس قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر فوری طور پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ توہین عدالت کی کارروائی کو آگے نہ بڑھائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ ہائیکورٹ کراچی میں عوامی پارکس وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ کراچی میں عوامی پارکس وفاقی آئینی عدالت وفاقی آئینی عدالت سندھ ہائیکورٹ عوامی پارکس کہ ہائیکورٹ عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔