وفاقی آئینی عدالت فعال کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ متحرک
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ تھرڈ فلور پر 4 عدالتیں تیاری کے مراحل میں ہیں - فوٹو: فائل
وفاقی آئینی عدالت فعال کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ متحرک ہوگئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ تھرڈ فلور پر 4 عدالتیں تیاری کے مراحل میں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور اٹارنی جنرل آفس بھی خالی کروا لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی حلف برداری: پہلے مرحلے میں عدالت کے تین ججز نے حلف اٹھالیاذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی 2 عدالتیں سیکنڈ فلور پر قائم ہوں گئی جہاں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالتیں منتقل ہوں گی۔
کورٹ ون میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان بیٹھیں گے جبکہ کورٹ ٹو میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر کی عدالت منتقلی کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ وفاقی آئینی عدالت عدالت کے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔