سینیٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
گزٹ نوٹیفکیشن سینیٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا، ایوان زیریں اور بالا سے 56 ترامیم منظور کی گئیں۔
واضح رہے کہ آئینی ترمیم میں عدلیہ، عسکری قیادت اور وفاقی و صوبائی اختیارات سمیت کئی اہم آئینی دفعات سے متعلق تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، ججز کے تبادلے کی اختیار میں تبدیلی، عسکری سربراہی ڈھانچے میں ترمیم اور ایک نئے وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر غور کیا گیا تھا۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
آئینی ترمیم کا مسودہ سب سے پہلے وفاقی کابینہ سے منظور کیا گیا تھا، گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تینوں سروسز چیفس اور عدلیہ سے متعلق قوانین میں ترمیم کی منظوری دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔