data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)سندھ ترقی پسند پارٹی ضلع حیدرآباد کے صدر جان محمد جونیجونے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کرکے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے 73 کے آئین کا جنازہ نکال کر اسے دفن کردیا ہے سندھ کی تقسیم کرنے کی سوچ رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یہ بات انھوں سندھ ترقی پسند پارٹی کی نومنتخب عہدداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم مایوس اور بیمار سیاسی ذہنوں کی پیداوار ہے جو جانتے ہیں عوام انھیں اور کی سوچ کو مسترد کر چکی ہے اب وہ اس ترمیم کے زریعے ملک میں بادشاہت کے نظام کے قائم کرکے حکومت کرنا چاہتے ہیں جیسے کسی صورت قبول نہیں کی جائے گاانھوں نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ذہن یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس ترمیم کے ذریعے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ہم سندھ کی تقسیم کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جو 73 کے آئیناپنے آپ کو خالق کہتی تھی اس نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر 73 کے آئین کو 27ویں آئینی ترمیم کے زریعے اس کا جنازہ نکالا کر اسے دفن کردیا ہے انھوں نے کہا کہ ہم اس آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف بھرپور طرح سے آواز اٹھائیں گے انھوں نے کہا وقت نے ثابت کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کی سب بڑی دشمن جماعت ہے اس نے صرف اپنے اقتدار کی خاطر اور اپنی کرپشن چھپانے کی خاطر سندھ کے پانی کا سودا کیا زرعی زمین کا سودا کیا اور سندھ میں غیر ملکی اور افغان مہاجرین کو اپنا ووٹر بنا کر انھیں تحفظ فراہم کیا اور اسی وجہ سے سندھ میں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ اس اپوزیشن کو اپنے تمام اختلافات بھولا متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ امریت اور بادشاہت کا راستہ روکا جا سکے تقریب میں حسن جونیجو، مراد ابڑو، ممتاز سراز، منٹھارر خاصخیلی، ایاز گاڈھی، شاہنواز جمالی، منصور سولنگی سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انھوں نے کہا کہ سندھ کی

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود