Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:31:40 GMT

35ویں نیشنل گیمز کی مشعل روشن، ملک گیر سفر کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

35ویں نیشنل گیمز کی مشعل روشن، ملک گیر سفر کا آغاز

کراچی (نیوز ڈیسک)ملک گیر سفر کے آغاز میں کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کے بعد مشعل صوبہ خبر پختون خواہ کے حوالے کر دی گئی۔35ویں نیشنل گیمز کی مشعل روشن کردی گئی، ملک گیر سفر کے آغاز میں کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کے بعد مشعل صوبہ خبر پختون خواہ کے حوالے کر دی گئی۔ دوسری جانب صوبہ بلوچستان نے نیشنل گیمز کی قائد اعظم ٹرافی میزبان صوبے سندھ کو پیش کی۔

مزار قائد پر منعقدہ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔تقریب میں وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر ،دیگر صوبائی وزرا،ارکان سندھ اسمبلی، سیکریٹری اسپورٹس منورعلی مہیسر،پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدداران اور معروف قومی کھلاڑی شریک ہوئے۔

مہمان خصوصی نے 18 سال بعد سندھ کی میزبانی میں ہونے والے 35ویں گیمز کی مشعل کو روایتی انداز میں روشن کیا۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنےخطاب میں کہا کہ35ویں نیشنل گیمز کو شایان شان انداز منعقد کرایا جائے گا۔ بانی پاکستان قائد اعظم کو کھیلوں سے خاص رغبت تھی۔ انہوں نے پہلے نیشنل گیمز کی ٹرافی کے لیےاپنی ذاتی جیب سے رقم عطیہ کی تھی۔اب نیشنل گیمز کی ٹرافی قائد اعظم کے نام سے ہی منسوب ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل گیمز کے کہ کامیاب انعقاد سے کراچی کا مثبت چہرہ ایک مرتبہ پھر ابھر کے سامنے آئے گا۔ہم سب کو مل کر نیشنل گیمز کو کامیاب بنانا ہوگا۔نیشنل گیمز میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت قابل تحسین عمل ہے۔ یوتھ اولمپک گیمز ہر دوسال بعد ہوں گے۔
قبل ازیں سندھ کے وزیر کھیل اور سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے صدرسردار محمد محمد بخش خان مہر نے استقبالی کلمات ادا کیے۔

وزیر کھیل محمد بخش مہر نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد پہلے نیشنل گیمز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کرائے تھے۔ 18 سال بعد ایک مرتبہ پھر سندھ کو نیشنل گیمز کی میزبانی ملنا اعزاز ہے۔ گیمز کے موقع پر بھرپور حفاظتی انتظامات کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تقریب کے بعد ٹارچ ریلی کا آغاز ہوا،معروف قومی کھلاڑوں نے ٹارچ ریلی میں حصہ لیا ۔شہر کے مختلف علاقوں کا سفر کرنے والی مشعل مزار قائد سے روآنہ ہو کر شارع قائدین، شارع فیصل، عبداللہ ہارون روڈ سمیت دیگر مقامات سے ساحل سمندر اور پھر مرینا کلب پہنچی۔

بعد ازاں مشعل کو سمندر کی سیر کرائی گئی،جس کے بعد ملک گیر سفر کے دوسرے مرحلے کے لیے مشعل کوصوبہ خیبرپختونخواہ کے حوالے کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ 35 ویں نیشنل گیمز کی افتتاحی تقریب 6 دسمبر کو نیشنل بینک اسٹیڈیم میں ہوگی۔اس موقع پرصدر مملکت آصف علی زرداری ہوں گے،وزیراعظمِ پاکستان محمد شہباز شریف 13 دسمبر کو اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔13روزہ نیشنل گیمز میں مرد اور خواتین کے 34 کھیلوں کے مقابلوں کا کراچی کے 24 مختلف مقامات پر انعقاد طے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیشنل گیمز کی ملک گیر سفر کے بعد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا