پی ڈی پی کی نظر میں بڈگام انتخابات عمر عبداللہ کی حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ ہے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
آغا سید روح اللہ کی تصویریں ہاتھوں میں لئے لوگ کہہ رہے تھے کہ اسی ناراضگی کیوجہ سے انہوں نے پہلی بار پی ڈی پی کو ووٹ دیا تاکہ نیشنل کانفرنس کو آئینہ دکھایا جاسکے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈران بڈگام ضمنی انتخابات کے نتائج کو عمر عبداللہ کی حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ جمعہ کو مشتہر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج نے جموں کشمیر خاص کر وادی کے سیاسی منظر نامے میں اُس وقت زلزلہ بپا کر دیا جب پی ڈی پی کے امیدوار آغا سید منتظر مہدی نے حکمران جماعت (نیشنل کانفرنس) کے امیدوار آغا سید محمود کو شکست دیکر اسمبلی میں پی ڈی پی کو ایک اور نمائندگی دلائی۔ بڈگام نشست پر اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس نے پہلی بار ہار کا سامنا کیا ہے اور اس پی ڈی پی اس جیت کو عمر عبداللہ کی حکومت کے خلاف عوامی منڈیٹ سے تعبیر کر رہی ہے۔ میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی کے لیڈر اور رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے کہا کہ انتخابی نتائج دراصل ایک سال مکمل کرنے والی (عمر عبداللہ) حکومت کی کارکردگی پر سیدھا فیصلہ ہے۔
وحید الرحمن پرہ نے الزام عائد کیا کہ پچاس سے زائد ایم ایل ایز کے باوجود حکومت نے کبھی اصل اور عوام دوست کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی عوامی مسائل کے تئی کوئی سنجیدگی اس حکومت کی کبھی نظر آئی۔ وحید الرحمن پرہ نے ان باتوں کا اظہار بڈگام میں کیا جہاں وہ اپنے پارٹی امیدوار سید منتظر مہدی سے ملاقات کے لئے پہنچے۔ آغا سید منتظر کے گھر کے باہر پی ڈی پی حامی جن میں مرد، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جمع ہوئے اور سید منتظر مہدی کی جیت کا جشن منایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھیڑ نے آتش بازی بھی کی، پٹاخے پھوڑے اور نعرے بازی بھی کی، تاہم حیران کن طور پر یہ نعرے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کے حق میں تھے۔ آغا سید روح اللہ کی تصویریں ہاتھوں میں لئے لوگ کہہ رہے تھے کہ اسی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے پہلی بار پی ڈی پی کو ووٹ دیا تاکہ نیشنل کانفرنس کو آئینہ دکھایا جا سکے۔
نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات پہلے ہی نمایاں تھے اور اس ہار کے بعد یہ دراڑ اور گہری ہونے کا امکان ہے۔ ضمنی الیکشن اس لئے بھی اہم تھا کہ یہ عمر عبداللہ حکومت کے لئے پہلا عوامی امتحان تھا۔ آغا سید منتظر مہدی کا تعلق بڈگام کے بااثر شیعہ خاندان سے ہے۔ 32 سالہ سید منتظر مہدی پیشے سے وکیل ہیں اور 2024ء میں عمر عبداللہ کے ہاتھوں اسی نشست سے شکست کھا چکے ہیں۔ چونکہ وزیراعلٰی نے گاندربل سے بھی الیکشن جیتا تھا اور وہی سیٹ برقرار رکھی اور بڈگام نشست سے مستعفی ہوئے اس لئے بڈگام نشست پر دوبارہ انتخابات ناگزیر قرار پائے۔ ادھر پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے بھی بڈگام کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا انہوں نے صحیح فیصلہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ حکومت کے پی ڈی پی
پڑھیں:
وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔