WE News:
2026-06-03@00:44:35 GMT

پاکستان سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا، وجوہات کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

پاکستان سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا، وجوہات کیا ہیں؟

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کسی بھی ملک میں موجودگی سرمایہ کاری، روزگار اور بیرونی کرنسی کے بہاؤ کے اضافے کا باعث بنتی ہے، جس سے ملکی معیشت کو خاطرخواہ فائدہ پہنچتا ہے۔

تاہم پاکستان میں گزشتہ 2 برسوں کے دوران متعدد عالمی کمپنیوں نے اپنے کاروبار بند کرنے یا نمایاں حد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں یہ رجحان مزید تیز ہوا ہے اور کئی بین الاقوامی اداروں نے پاکستان میں موجودگی برقرار رکھنا مشکل قرار دیتے ہوئے انخلا یا ڈاؤن سائزنگ کو ترجیح دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی کمپنی کا پاکستان میں مینوفیکچرنگ بند کرکے ڈسٹری بیوٹر ماڈل پر منتقل ہونے کا فیصلہ

معاشی غیر یقینی صورتحال، روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا خدشہ، کاروباری لاگت میں اضافہ اور حکومتی پالیسیوں میں استحکام کی کمی اس غیر معمولی رجحان کے بنیادی عوامل قرار دیے جاتے ہیں۔

جیلیٹ، پیمپرز، ایریئل اور ہیڈاینڈ شولڈر جیسے معروف عالمی برانڈز کی مالک امریکی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل نے پاکستان میں اپنی پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، کمپنی اب اپنی مصنوعات مقامی صارفین تک تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے پہنچائے گی۔

جس کا مطلب ہے کہ اگرچہ برانڈز مارکیٹ میں موجود رہیں گے مگر کمپنی کی فزیکل فیکٹریاں اور آپریشنز ملک میں برقرار نہیں رہیں گے، اسی طرح شیل پیٹرولیم لمیٹڈ نے 2023 میں اپنے 77.

42 فیصد حصص فروخت کردیے، جو بعد ازاں سعودی آصف ہولڈنگ کے ذریعے وافی انرجی ہولڈنگ نے خرید لیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں مائیکروسافٹ کا دفتر بند: کیا ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نقصان ہو سکتا ہے؟

اس کے بعد شیل پاکستان لمیٹڈ کا نام تبدیل کرکے وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ رکھ دیا گیا، لیکن عوامی سطح پر اب بھی شیل کا نام استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کاروبار عملی طور پر ایک نئی کمپنی کے تحت جاری ہے۔

اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ، اوبر، یاماہا اور عالمی دواساز کمپنی ایلائی لِلی بھی گزشتہ برسوں میں پاکستان میں اپنی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کر چکی ہیں یا مکمل طور پر ملک چھوڑ چکی ہیں۔

محتاط اندازوں کے مطابق گزشتہ 3 سال میں مجموعی طور پر 30 سے زائد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے انخلا کرچکی ہیں یا اپنے آپریشنز کو محدود کرنے پر مجبور ہوئی ہیں، جو معاشی اور پالیسی کی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں گمراہ کن مارکیٹنگ، غیر حقیقی دعوے ملٹی نیشنل کمپنی کو مہنگے پڑگئے

تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا کی بنیادی وجوہات میں بلند ٹیکس، روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایکسچینج ریٹ کے شدید اتار چڑھاؤ نے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مالی خطرات میں اضافہ کیا، جبکہ بجلی، گیس اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھا دی ہے کہ متعدد عالمی کمپنیاں یہاں کاروبار جاری رکھنے میں خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

مزید یہ کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث حکومت کی جانب سے منافع بیرون ملک منتقل کرنے پر پابندیاں یا تاخیر نے بھی کمپنیوں کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں کی جانب سے ووٹرز کے لیے بڑی پیش کش کا اعلان

ریگولیٹری اداروں کی سخت کارروائیاں، ٹیکسوں کا بوجھ اور مہنگائی کے باعث صارفین کی قوت خرید میں کمی نے بھی کمپنیوں کی فروخت اور منافع کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کئی اداروں نے پاکستان کو اپنی ترجیحات کی فہرست سے نکال دیا۔

سینیئر صحافی محمد حمزہ گیلانی کا کہنا ہے کہ پی اینڈ جی کے انخلا کا بڑا سبب مسلسل خسارہ اور عالمی سطح پر زیادہ منافع بخش مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی ہے۔

ان کے مطابق کمپنی کی ذیلی لسٹڈ کمپنی جیلیٹ بھی پاکستان میں منافع نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھی، پی اینڈ جی نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے بجائے مجموعی عالمی کاروباری حکمت عملی کی تبدیلی کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جارحیت: پاکستانی مارکیٹ میں ملٹی نیشنل کمپنیاں مستقل دباؤ کا شکار

کمپنی کے مقامی ایجنٹ عارف حبیب گروپ کا کہنا ہے کہ پی اینڈ جی کے شئیرز فروخت کے لیے دستیاب ہیں اور مارکیٹ میں ان کی خریداری میں دلچسپی بھی موجود ہے۔

پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تیزی سے انخلا معاشی عدم استحکام، پالیسیوں کی ناقابل پیش گوئی نوعیت، بڑھتی ہوئی لاگت اور ریگولیٹری دباؤ سے جنم لینے والا ایک جامع مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور طویل المیعاد حکومتی اقدامات ناگزیر نظر آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ملٹی نیشنل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ملٹی نیشنل ملٹی نیشنل کمپنیوں ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان میں مزید پڑھیں کے مطابق کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف

ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔

لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ