WE News:
2026-07-24@03:04:09 GMT

پاکستان سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا، وجوہات کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

پاکستان سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا، وجوہات کیا ہیں؟

ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کسی بھی ملک میں موجودگی سرمایہ کاری، روزگار اور بیرونی کرنسی کے بہاؤ کے اضافے کا باعث بنتی ہے، جس سے ملکی معیشت کو خاطرخواہ فائدہ پہنچتا ہے۔

تاہم پاکستان میں گزشتہ 2 برسوں کے دوران متعدد عالمی کمپنیوں نے اپنے کاروبار بند کرنے یا نمایاں حد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں یہ رجحان مزید تیز ہوا ہے اور کئی بین الاقوامی اداروں نے پاکستان میں موجودگی برقرار رکھنا مشکل قرار دیتے ہوئے انخلا یا ڈاؤن سائزنگ کو ترجیح دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی کمپنی کا پاکستان میں مینوفیکچرنگ بند کرکے ڈسٹری بیوٹر ماڈل پر منتقل ہونے کا فیصلہ

معاشی غیر یقینی صورتحال، روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا خدشہ، کاروباری لاگت میں اضافہ اور حکومتی پالیسیوں میں استحکام کی کمی اس غیر معمولی رجحان کے بنیادی عوامل قرار دیے جاتے ہیں۔

جیلیٹ، پیمپرز، ایریئل اور ہیڈاینڈ شولڈر جیسے معروف عالمی برانڈز کی مالک امریکی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل نے پاکستان میں اپنی پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، کمپنی اب اپنی مصنوعات مقامی صارفین تک تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے پہنچائے گی۔

جس کا مطلب ہے کہ اگرچہ برانڈز مارکیٹ میں موجود رہیں گے مگر کمپنی کی فزیکل فیکٹریاں اور آپریشنز ملک میں برقرار نہیں رہیں گے، اسی طرح شیل پیٹرولیم لمیٹڈ نے 2023 میں اپنے 77.

42 فیصد حصص فروخت کردیے، جو بعد ازاں سعودی آصف ہولڈنگ کے ذریعے وافی انرجی ہولڈنگ نے خرید لیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں مائیکروسافٹ کا دفتر بند: کیا ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نقصان ہو سکتا ہے؟

اس کے بعد شیل پاکستان لمیٹڈ کا نام تبدیل کرکے وافی انرجی پاکستان لمیٹڈ رکھ دیا گیا، لیکن عوامی سطح پر اب بھی شیل کا نام استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کاروبار عملی طور پر ایک نئی کمپنی کے تحت جاری ہے۔

اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ، اوبر، یاماہا اور عالمی دواساز کمپنی ایلائی لِلی بھی گزشتہ برسوں میں پاکستان میں اپنی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کر چکی ہیں یا مکمل طور پر ملک چھوڑ چکی ہیں۔

محتاط اندازوں کے مطابق گزشتہ 3 سال میں مجموعی طور پر 30 سے زائد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے انخلا کرچکی ہیں یا اپنے آپریشنز کو محدود کرنے پر مجبور ہوئی ہیں، جو معاشی اور پالیسی کی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں گمراہ کن مارکیٹنگ، غیر حقیقی دعوے ملٹی نیشنل کمپنی کو مہنگے پڑگئے

تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا کی بنیادی وجوہات میں بلند ٹیکس، روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایکسچینج ریٹ کے شدید اتار چڑھاؤ نے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مالی خطرات میں اضافہ کیا، جبکہ بجلی، گیس اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت اس حد تک بڑھا دی ہے کہ متعدد عالمی کمپنیاں یہاں کاروبار جاری رکھنے میں خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

مزید یہ کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث حکومت کی جانب سے منافع بیرون ملک منتقل کرنے پر پابندیاں یا تاخیر نے بھی کمپنیوں کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں کی جانب سے ووٹرز کے لیے بڑی پیش کش کا اعلان

ریگولیٹری اداروں کی سخت کارروائیاں، ٹیکسوں کا بوجھ اور مہنگائی کے باعث صارفین کی قوت خرید میں کمی نے بھی کمپنیوں کی فروخت اور منافع کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کئی اداروں نے پاکستان کو اپنی ترجیحات کی فہرست سے نکال دیا۔

سینیئر صحافی محمد حمزہ گیلانی کا کہنا ہے کہ پی اینڈ جی کے انخلا کا بڑا سبب مسلسل خسارہ اور عالمی سطح پر زیادہ منافع بخش مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی ہے۔

ان کے مطابق کمپنی کی ذیلی لسٹڈ کمپنی جیلیٹ بھی پاکستان میں منافع نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھی، پی اینڈ جی نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے بجائے مجموعی عالمی کاروباری حکمت عملی کی تبدیلی کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جارحیت: پاکستانی مارکیٹ میں ملٹی نیشنل کمپنیاں مستقل دباؤ کا شکار

کمپنی کے مقامی ایجنٹ عارف حبیب گروپ کا کہنا ہے کہ پی اینڈ جی کے شئیرز فروخت کے لیے دستیاب ہیں اور مارکیٹ میں ان کی خریداری میں دلچسپی بھی موجود ہے۔

پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تیزی سے انخلا معاشی عدم استحکام، پالیسیوں کی ناقابل پیش گوئی نوعیت، بڑھتی ہوئی لاگت اور ریگولیٹری دباؤ سے جنم لینے والا ایک جامع مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور طویل المیعاد حکومتی اقدامات ناگزیر نظر آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ملٹی نیشنل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ملٹی نیشنل ملٹی نیشنل کمپنیوں ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان میں مزید پڑھیں کے مطابق کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا