Islam Times:
2026-07-24@07:31:43 GMT

وقوع قیامت، نشانیاں اور ظہور امام مہدی (علیہ السلام)

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

وقوع قیامت، نشانیاں اور ظہور امام مہدی (علیہ السلام)

اسلام ٹائمز: دنیا تیزی سے گزر رہی ہے، وقت سمٹ رہا ہے اور قیامت کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک زمانہ تیزی سے نہ گزرنے لگے۔۔۔"(صحیح مسلم، حدیث: 157) آج وقت اسی تیزی سے گزر رہا ہے، سال مہینے، مہینے ہفتوں اور ہفتے دنوں جیسے لگنے لگے ہیں۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار کریں، قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو اپنا مقصد بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان، عمل صالح اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان
 
محترم قارئین کرام ہم اہل اسلام ہیں اور ہمارے اسلام اور ایمان کی کچھ اہم بنیادیں ہیں۔ ان میں توحید، رسالت اور یوم قیامت پر ایمان لانا اسلام کا ایک لازمی اور اہم اساس ہے۔ قیامت کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: "وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ"(سورۃ البقرۃ: 4) "اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔" یوم آخرت پر ایمان رکھنا، اس کے وقوع کا یقین کرنا اور اس کے لیے تیاری کرنا دینِ اسلام کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کو ایک مانے، رسول اللہﷺ کو خاتم النبیین مانے، لیکن قیامت پر ایمان نہ رکھے تو وہ مومن نہیں کہلا سکتا۔ ایمان کے باب میں یہ تین چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔۔۔ توحید، رسالت اور معاد (یعنی قیامت)۔ قرآنِ مجید میں قیامت کا تذکرہ کثرت سے کیا گیا ہے۔ حجۃ الاسلام امام محمد الغزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں قیامت کے اکتالیس (41) نام بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں: یومُ الوعید (وعید کا دن)، یومُ البعث (دوبارہ اٹھائے جانے کا دن)، یومُ الحساب (حساب کا دن)، یومُ الدین (بدلے کا دن)، یومُ الحشر (جمع ہونے کا دن) یومُ الحسرة (حسرت کا دن)، یومُ القارعہ، یومُ الغاشیہ اور یومُ الحاقّہ۔

قرآن مجید میں قرب قیامت کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: "اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ"(سورۃ القمر: 1) "قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔" یہ آیت اُس عظیم معجزے کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جب رسولِ اکرمﷺ نے جبل ابی قبیس پر کھڑے ہو کر چاند کو اپنی مبارک انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ یہ واقعہ دراصل قربِ قیامت کی ایک علامت کے طور پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرمایا۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے ہمیں وقوع قیامت کے حوالے سے بہت اہم رہنمائی ملتی ہے اور قیامت کی علامات بہت وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ احادیثِ نبویہﷺ میں قیامت کی دو قسم کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
(1) علاماتِ صُغریٰ (چھوٹی نشانیاں)
(2) علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

چھوٹی نشانیاں:
چھوٹی نشانیوں میں رسولِ اکرمﷺ کا تشریف لانا، فتنوں کا ظاہر ہونا، علم کا اٹھ جانا، جھوٹ کی کثرت، موسیقی، شراب، سود، زنا اور ظلم کا عام ہو جانا شامل ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جب میری امت پندرہ کاموں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان پر مصیبتوں کا نزول واجب ہو جائے گا۔" (سنن الترمذی) پوچھا گیا: یارسول اللہ! وہ پندرہ کام کون سے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:
1۔ جب مالِ غنیمت ذاتی دولت بنا لیا جائے گا۔
2۔ امانت ضائع کر دی جائے گی۔
3۔ زکوٰۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا۔
4۔ بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کی جائے گی۔
5۔ دوستوں سے بھلائی اور والد سے بدسلوکی کی جائے گی۔
6۔ مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی۔
7۔ قوم کا سردار ذلیل انسان ہوگا۔
8۔ شراب پی جائے گی، ریشم پہنا جائے گا، گانے بجانے کے آلات حلال سمجھے جائیں گے۔
9۔ پہلے لوگوں پر طعن کیا جائے گا۔
آپﷺ نے فرمایا: "اس وقت سرخ آندھی، زمین کے دھنسنے اور شکلوں کے مسخ ہونے کا انتظار کرنا۔(سنن الترمذی، حدیث: 2210)

بڑی نشانیاں:
حضرت حذیفہ بن اسیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "قیامت اسوقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لوگے۔" (صحیح مسلم، حدیث:2901)
وہ دس نشانیاں یہ ہیں:
1۔ دھواں (دخان)
2۔ دجال کا خروج
3۔ دابۃ الارض (زمین سے ایک جانور کا نکلنا)
4۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
5۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
6۔ یاجوج و ماجوج کا خروج
7۔ زمین کا مشرق میں دھنسنا
8۔ زمین کا مغرب میں دھنسنا
9۔ زمین کا جزیرۃ العرب میں دھنسنا
10۔ یمن سے ایک آگ کا ظاہر ہونا، جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔

قیامت کی اہم نشانیوں میں سے ایک نشانی ظہور امام مہدی علیہ السلام ہے، جس کی پیشن گوئی جناب رسالت مآبﷺ نے فرما دی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا، جسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔" (سنن ابوداؤد، حدیث: 4282)۔ یہ ظہورِ امام مہدی علیہ السلام کی واضح پیشین گوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: "المهدي من عترتي من ولد فاطمة"(سنن ابوداؤد، حدیث: 4283) "امام مہدی میری اہلِ بیت میں سے ہیں، فاطمہؑ کی اولاد میں سے ہوں گے۔"

جب دنیا ظلم و فساد سے بھر جائے گی، امام مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے قبل حالات کو سازگار بنانا امت پر واجب ہے۔ ہمیں اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور باہمی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک اسلامی جھنڈے کے نیچے جمعہ ہونا چاہیئے۔ مکمل یگانگت امام مہدی علیہ السلام کے انقلابی ظہور کے لیے خشت اول کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم آج شدید ترین اختلافات کا شکار ہیں۔ اللہ کی عبادت نماز میں ہاتھ باندھنے پر اختلاف کرتے ہیں، ایک دوسرے پر طعن کرتے ہیں۔ ہم نماز پڑھنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر یا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا ہمارے لیے اختلافی نہیں بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے، جبکہ دشمن ہمارے ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے۔ ہم شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث کے خانوں میں بٹ گئے ہیں، مگر دشمن ہم سب کو "مسلمان" سمجھ کر نشانہ بناتا ہے اور بنا رہا ہے۔یہی وقت ہے کہ ہم اختلافات سے اوپر اٹھ کر امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بنیاد رکھیں، کیونکہ فرمایا گیا ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ"(سورۃ الحجرات: 10) "بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"

آخرت کی تیاری اور محاسبہ نفس:
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُۥ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّۭا يَرَهُۥ"(سورۃ الزلزال: 7-8) "جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی، وہ بھی اسے دیکھے گا۔" قیامت کا دن محاسبے کا دن ہے۔ ہر انسان سے سوال ہوگا: "میں نے تمہیں عمر دی تھی، تم نے اسے کہاں گزارا؟ میں نے رزق دیا تھا، تم نے کہاں خرچ کیا؟ میں نے اولاد دی تھی، تم نے کس طرح تربیت کی؟" اسی لیے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزاریں۔ جو بندہ دنیا میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا مطیع ہوگا، اللہ اسے قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ قیامت کے بپا ہونے سے پہلے اپنے نیک بندوں کو موت دے دے گا۔" (مسندامام احمد، حدیث: 23408)

دنیا تیزی سے گزر رہی ہے، وقت سمٹ رہا ہے اور قیامت کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک زمانہ تیزی سے نہ گزرنے لگے۔۔۔"(صحیح مسلم، حدیث: 157) آج وقت اسی تیزی سے گزر رہا ہے، سال مہینے، مہینے ہفتوں اور ہفتے دنوں جیسے لگنے لگے ہیں۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار کریں، قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو اپنا مقصد بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان، عمل صالح اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام مہدی علیہ السلام ا پﷺ نے فرمایا تیزی سے گزر رسول اللہﷺ اللہ تعالی ہے کہ ہم ا قیامت کے قیامت کی کرتے ہیں جائے گی جائے گا ہے اور رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر