اگر 27ویں آئینی ترمیم پہلے آجاتی تو نسلہ ٹاور مسمار ہونے سے بچ جاتا، سید ناصر شاہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
آباد ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے دوران صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کے ویژن کے مطابق سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، ہماری خواہش ہے کہ بلڈرز ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک نہ جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر 27 ویں آئینی ترمیم پہلے آجاتی تو نسلہ ٹاور مسمار ہونے سے بچ جاتا، نئے صوبے بنانے کی باتیں ایک شوشا اور محض ذہنی فتور ہے، بہت جلد کراچی کے انفرا اسٹرکچر بہت بہتر کیا جائے گا، پاکستان کی معیشت میں کراچی شہر کا 70 فیصد حصہ ہے لیکن وفاق کی جانب سے کراچی کو بی آرٹی کا منصوبہ دے کر بہلایا گیا، سو ارب روپے کا وعدہ بھی وفا نہیں ہوا، آباد سستی رہائشی اسکیموں کا مسودہ دے سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ سعودی حکومت اور آباد میں ایم او یو پر دستخط ہوا ہے جس کے تحت کراچی کے تعمیراتی شعبے میں سعودی عرب 50 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا، لینڈ ریکارڈ اور پرجیکٹس کی اپروول ڈیجیٹائیز کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کراچی کے لوگوں کے فائدے کیلئے بنی ہے، نئے صوبے بنانا مشکل ہے، سندھ میں موجود صوبائی مشینری کے اخراجات کی تکمیل نہیں ہو پارہی ایسے میں نئی اسمبلیاں، عدالتیں اور انفرا اسٹرکچر بنانا ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام پاکستان کے تمام صوبوں کے بلدیاتی نظاموں سے بہتر ہے، حکومت تعمیراتی شعبے کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے، جو اپروول زیرِ التوا ہیں وہ فوری جاری کیے جائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو سستے رہائشی منصوبے بروقت فراہم ہوں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ایس بی سی اے سمیت کئی محکموں میں بہتری کی ضرورت ہے اور ناجائز طور پر بلڈرز کو تنگ کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹایا بھی جا چکا ہے، غیر قانونی تعمیرات روکنا ضروری ہے مگر جائز کاموں میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔