data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبے نہ صرف معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں بھی نمایاں بہتری کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ترقی کے عمل میں شفافیت، رفتار اور عوامی فلاح کو یقینی بنانا ہے تاکہ شہری اور دیہی دونوں طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ  سندھ کے مختلف اضلاع میں ہائی ویز اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے منصوبے صوبے کے انفرا اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک بڑی کوشش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوسٹل ہائی وے، روہڑی تا گڈو بیراج روڈ، مہران ہائی وے، ٹنڈو الہیار سے ٹنڈو آدم تک سڑک اور سانگھڑ تا روہڑی شاہراہ جیسے منصوبے نہ صرف سفری سہولت فراہم کریں گے بلکہ صوبائی اور بین الصوبائی رابطوں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے تجارت، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سانگھڑ، ٹنڈو الہیار، نوابشاہ اور دیگر اضلاع میں جاری ترقیاتی اسکیمیں دیہی معیشت کو مستحکم بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی صنعتوں کو تقویت ملے گی اور دیہی سطح پر آمدنی میں اضافہ ہوگا، جس سے صوبے کی مجموعی معیشت میں توازن پیدا ہوگا۔

شرجیل میمن نے فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبوں کی مکمل نگرانی کو سندھ حکومت کی ترقیاتی پالیسی کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ فلڈ ایمرجنسی ریکنسٹرکشن پروجیکٹ اس بات کی واضح مثال ہے کہ صوبائی حکومت نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک پائیدار اور مضبوط ڈھانچے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے جس تیزی اور عزم کے ساتھ بحالی کا عمل شروع کیا، وہ دیگر صوبوں اور وفاقی اداروں کے لیے ایک مثالی ماڈل بن چکا ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی مرمت اور نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر صوبے کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے لیے ترقی، شفافیت اور فلاح کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے تاکہ صوبہ ہر لحاظ سے ایک مضبوط، خوشحال اور پائیدار مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ سندھ شرجیل میمن سندھ حکومت انہوں نے نے کہا کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن