واٹس ایپ کی بڑی تبدیلی، اب صارفین دوسری ایپلی کیشن پر بھی پیغامات بھیج سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واٹس ایپ نے اپنی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن میں ایک انقلابی تبدیلی متعارف کرادی ہے، جس کا دنیا بھر کے صارفین کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔ یہ نیا فیچر ابتدائی طور پر یورپ میں متعارف کرایا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اسے دیگر خطوں میں بھی دستیاب بنایا جائے گا۔
واٹس ایپ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق اب صارفین واٹس ایپ سے براہِ راست کسی دوسری میسیجنگ ایپلی کیشن پر میسیجز بھیج سکیں گے۔ یہ خصوصیت فی الحال صرف یورپی یونین کے رکن ممالک میں اور محدود پیمانے پر دستیاب ہے، اور ابتدائی طور پر صرف آئی او ایس صارفین اس کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس نئے فیچر کے تحت واٹس ایپ کے صارفین نہ صرف ٹیکسٹ میسیجز، بلکہ تصاویر، ویڈیوز، فائلز اور وائس نوٹس بھی دیگر ایپلی کیشنز پر بھیج سکیں گے۔ تاہم اس وقت واٹس ایپ اسٹیسس کو دوسری ایپلی کیشنز پر شیئر نہیں کیا جا سکے گا۔
ابتدائی مرحلے میں صارفین صرف ایک مخصوص ایپ پر میسیج بھیج سکیں گے، مگر رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں اس حدود کو وسیع کیا جائے گا اور متعدد ایپس پر واٹس ایپ سے براہِ راست میسیجز بھیجے جا سکیں گے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپڈیٹ واٹس ایپ کے صارفین کے لیے ایک نیا تجربہ ثابت ہوگی، کیونکہ اب مختلف میسیجنگ پلیٹ فارمز کے درمیان رابطے کا عمل مزید آسان اور فوری ہو جائے گا۔ ابتدائی طور پر یورپ میں محدود استعمال کے بعد امکان ہے کہ یہ فیچر دیگر خطوں میں بھی دستیاب کرایا جائے گا، جس سے عالمی سطح پر صارفین کی سہولت میں اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھیج سکیں گے واٹس ایپ جائے گا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔