فیروز خان اپنے بچوں کی کفالت کیلیے ہر ماہ کتنے لاکھ روپے ادا کرتے ہیں؟ بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
فیروز خان کی سابق اہلیہ علیزے سلطان کی ایک پوسٹ کے بعد نیا تنازع شروع ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق علیزے سلطان نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے بچوں کے سردی کے کپڑوں اور اسکول یونیفارم کے حوالے سے ایک پوسٹ کی۔
اس کے بعد فیروز خان کی دوسری اہلیہ ڈاکٹر زینب میدان میں کودیں اور انہوں نے علیزے سلطان کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اب اداکار فیروز خان کی بہن تابندہ ملک نے اس تنازع کے دوران نیا پینڈورا باکس کھولا اور اخراجات کے حساب سے سارا کھاتہ عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔
تابندہ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر انکشاف کیا کہ سلطان اور فاطمہ کی کفالت کیلیے علیزے کو ہر ماہ دو لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے اس دو لاکھ روپے کا بریک اپ بتایا کہ دونوں بچوں کے اسکول کی فیس اور دیگر اخراجات بھی اس میں شامل ہیں.
فیروز خان کی بہن کے اس تبصرے پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ فاطمہ، سلطان آپ کے بھتیجے اور فیروز کی اولاد ہیں، مہنگائی کے اس دور میں دو لاکھ روپے کم ہے اور وہ کیوں آپ کی طرح اچھی زندگی نہیں گزار سکتے۔
تابندہ ملک کی اس پوسٹ پر علیزے سلطان نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی اُن کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیروز خان کی علیزے سلطان لاکھ روپے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔