فیروز خان کی موجود اور سابقہ اہلیہ میں لفظی جنگ کیوں ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
معروف اداکار فیروز خان کی ذاتی زندگی ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ فیروز خان کی پہلی شادی سیدہ علیزا سلطان سے ہوئی تھی جن سے ان کے دو بچے ہیں، بیٹا سلطان اور بیٹی فاطمہ۔ طلاق کے بعد بچوں کی بنیادی پرورش علیزا کے پاس ہے جبکہ فیروز خان بھی بچوں کی کفالت میں شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’بلیک میل کرکے شادی پر مجبور کیا‘، فیروز خان کی انسٹاگرام اسٹوری نے تہلکہ مچا دیا
تازہ واقعے میں فیروز خان کی موجودہ اہلیہ ڈاکٹر زینب اور ان کی سابقہ اہلیہ علیزا سلطان کے درمیان انسٹاگرام پر کھلم کھلا تکرار ہوئی۔ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بعد میں ڈیلیٹ کردی گئی۔
علیزا سلطان نے انسٹاگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فیروز خان بچوں کے لیے سردیوں کی یونیفارمز بھیجیں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر زینب نے سرِعام تحریر کیا کہ علیزا کو فیروز کو بار بار پریشان نہیں کرنا چاہیے اور ان کے مطابق یہ معاملہ پلیٹ فارم پر اٹھانا درست نہیں تھا۔ ڈاکٹر زینب نے یہ بھی کہا کہ علیزا کے رویے سے فیروز خان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس تنازعے پر مختلف آرا کا اظہار کیا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ ایسے گھریلو مسائل سرِعام بیان کرنا مناسب نہیں اور مستقبل میں بچوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، جبکہ دیگر نے مؤقف اپنایا کہ بچوں کے اخراجات کا مطالبہ کرنا علیزا کا حق ہے اور یہ ذمہ داری دونوں والدین کی برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیروز خان کی سابق اہلیہ علیزہ سلطان نے ڈیلی وی لاگنگ کیوں چھوڑ دی؟
آن لائن بحث کے نتیجے میں یہ معاملہ سوشل میڈیا پر انتہائی زیرِبحث رہا اور صارفین نے دونوں شخصیات کو نجی معاملات عوامی مباحثوں سے دور رکھنے کا مشورہ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول یونیفارم بچے بیوی جھگڑا ڈاکٹر زینب سردی علیزہ سلطان فیروز خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول یونیفارم بچے بیوی جھگڑا ڈاکٹر زینب علیزہ سلطان فیروز خان فیروز خان کی ڈاکٹر زینب
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔