سعودی عرب نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اعزاز سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سعودی عرب نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو فوجی تعلقات مضبوط بنانے اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر (ایکسِلینٹ کلاس) اعزاز سے نوازا گیا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ریاض میں سعودی عرب کی مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات کی جس میں دفاعی شراکت داری کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا، جہاں اُن کی سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ملاقات ہوئی۔
فریقین نے برادرانہ تعلقات اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے عالمی و علاقائی صورتحال اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں فریقین نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے اور نمایاں خدمات کے اعتراف میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف آنر (ایکسِلینٹ کلاس) سے نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین جوائنٹ چیفس اسٹاف کمیٹی کو مزید
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔