Islam Times:
2026-06-03@05:00:09 GMT

مقاومت کو غیر مسلح کرنا ناممکن ہے، جھاد اسلامی

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

مقاومت کو غیر مسلح کرنا ناممکن ہے، جھاد اسلامی

الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ جنگبندی کے معاہدے میں تو یہ طے ہوا تھا کہ نہتے شہریوں کے قتل عام اور جارحانہ کارروائیوں کو بند کیا جائیگا، لیکن اب تک 241 افراد کو قابض رژیم نے اپنے حملوں میں شہید کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین كی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" كے ڈپٹی سیكرٹری جنرل "محمد الهندی" نے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام کے حوالے سے امریکی مسودے میں جان بوجھ کر مبہم نکات رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں تعینات ہونے والی کوئی بھی فورس صرف اسی صورت قابل قبول ہوگی جب وہ لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستے یونیفل کی طرح، صرف نگرانی کرے اور اس کے اختیارات و دورانیہ واضح ہوں۔ محمد الھندی نے واضح کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ غزہ میں استقامتی محاذ کو غیر مسلح کرے، پولیس کو تربیت دے اور شہریوں کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے راستے میں مقاومتہ فورسز کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا کوئی بھی منصوبہ ناکام و قابل مذمت ہے کیونکہ اس طرح کی سازشوں سے سوائے استعمار کے اسٹریٹجک ایجنڈوں کی تکمیل کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

دوسری جانب اسی سلسلے میں فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے سینئر رہنماء "اسماعیل رضوان" نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ مقاومت، جنگ بندی کے معاہدے کی کامیابی چاہتی ہے اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔ اسماعیل رضوان نے کہا کہ استقامتی محاذ، صیہونی قیدیوں کی لاشوں کے معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں تو یہ طے ہوا تھا کہ نہتے شہریوں کے قتل عام اور جارحانہ کارروائیوں کو بند کیا جائے گا، لیکن اب تک 241 افراد کو قابض رژیم نے اپنے حملوں میں شہید کر دیا۔ حماس کے اس سینئر رہنماء نے واضح کیا کہ معاہدے میں انسانی امداد کے 600 ٹرکوں کی غزہ میں داخلے کی منظوری دی گئی تھی جن میں سے صرف 150 سے 200 ٹرک ہر روز غزہ کی پٹی میں داخل ہو پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ میں شدید غذائی قلت ہے اور دوائیوں کی کمی ہے، اسلئے جس قدر جلد ممکن ہو رفح کراسنگ کھولنے کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے معاہدے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار