اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر قیادت بار کونسل کے انتخابات میں پارٹی کے گڑھ یعنی کے پی کے میں دوسری بڑی شکست پر پریشان ہے۔ خیبر پختونخوا میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں شکست کے دو ہفتوں بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ وکلاء کو ایک مرتبہ پھر دوسری بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس مرتبہ صوبائی بار کونسلز کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے حمایت یافتہ ملگاری وکیلان گروپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کے پی بار کونسل کے گزشتہ ہفتے ہوئے انتخابات کے نتائج کے مطابق، ملگاری وکیلان کے امیدواروں نے 28؍ میں سے 13؍ نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کو صرف پانچ نشستوں پر ہی کامیابی ملی ہے۔ باقی نشستوں پر جے یو آئی ف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، نون لیگ اور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے اس صورتحال کو ’’بہت ہی بڑی بدقسمتی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اختلافات اور کے پی حکومت کی گورننس اور سروس ڈیلیوری کی بجائے سیاست پر توجہ کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں پارٹی کو یکے بعد دیگرے شکست نصیب ہو رہی ہے۔ اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ اس شکست کے پی ٹی آئی اور حال ہی میں صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے سہیل آفریدی کیلئے سیاسی مضمرات ہوں گے، وزیر اعلیٰ نے نہ صرف سرگرمی کے ساتھ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیداروں کے حق میں مہم چلائی بلکہ صوبائی بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات سے قبل ساڑھے چار کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان کوششوں کے باوجود، پی ٹی آئی کو اپنے ہی سیاسی گڑھ میں بدترین شکست نصیب ہوئی ہے۔ تازہ ترین دھچکا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ پینل کی ناکامی کے بعد لگا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں پی ٹی آئی صوبہ بھر کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ہار گئی۔ اُس مقابلے میں، پی ٹی آئی کے پینل کی قیادت سینیٹر حامد خان کر رہے تھے جنہیں ایک بھی کامیابی نہیں ملی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینئر وکیل احسن بھون کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے ملک بھر میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ مسلسل انتخابی شکستیں خیبر پختونخوا کی وکلاء برادری میں تحریک انصاف کے اثر و رسوخ میں واضح کمی ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کو تاحال مکمل طور پر یہ اطلاع نہیں دی گئی کہ صوبے میں پارٹی کی مقبولیت کس حد تک گر چکی ہے۔ نومنتخب ارکان میں ’’ملگاری وکیلان‘‘ نے پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنّوں میں اہم نشستیں حاصل کیں۔ پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اب خیبر پختونخوا بار کونسل میں لگاتار شکستوں نے ظاہر کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی وکلاء برادری پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے اور اس کے روایتی ووٹ بینک میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

انصار عباسی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے انتخابات میں سپریم کورٹ بار کے حمایت یافتہ خیبر پختونخوا پی ٹی ا ئی کے بار ایسوسی بار کونسل

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت