کے پی میں پی ٹی آئی کو دوسرا بڑا جھٹکا، بار کونسل الیکشن میں بھی شکست
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر قیادت بار کونسل کے انتخابات میں پارٹی کے گڑھ یعنی کے پی کے میں دوسری بڑی شکست پر پریشان ہے۔ خیبر پختونخوا میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں شکست کے دو ہفتوں بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ وکلاء کو ایک مرتبہ پھر دوسری بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس مرتبہ صوبائی بار کونسلز کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے حمایت یافتہ ملگاری وکیلان گروپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کے پی بار کونسل کے گزشتہ ہفتے ہوئے انتخابات کے نتائج کے مطابق، ملگاری وکیلان کے امیدواروں نے 28؍ میں سے 13؍ نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کو صرف پانچ نشستوں پر ہی کامیابی ملی ہے۔ باقی نشستوں پر جے یو آئی ف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، نون لیگ اور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے اس صورتحال کو ’’بہت ہی بڑی بدقسمتی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اختلافات اور کے پی حکومت کی گورننس اور سروس ڈیلیوری کی بجائے سیاست پر توجہ کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں پارٹی کو یکے بعد دیگرے شکست نصیب ہو رہی ہے۔ اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ اس شکست کے پی ٹی آئی اور حال ہی میں صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے سہیل آفریدی کیلئے سیاسی مضمرات ہوں گے، وزیر اعلیٰ نے نہ صرف سرگرمی کے ساتھ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیداروں کے حق میں مہم چلائی بلکہ صوبائی بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات سے قبل ساڑھے چار کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان کوششوں کے باوجود، پی ٹی آئی کو اپنے ہی سیاسی گڑھ میں بدترین شکست نصیب ہوئی ہے۔ تازہ ترین دھچکا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ پینل کی ناکامی کے بعد لگا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں پی ٹی آئی صوبہ بھر کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ہار گئی۔ اُس مقابلے میں، پی ٹی آئی کے پینل کی قیادت سینیٹر حامد خان کر رہے تھے جنہیں ایک بھی کامیابی نہیں ملی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینئر وکیل احسن بھون کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے ملک بھر میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ مسلسل انتخابی شکستیں خیبر پختونخوا کی وکلاء برادری میں تحریک انصاف کے اثر و رسوخ میں واضح کمی ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کو تاحال مکمل طور پر یہ اطلاع نہیں دی گئی کہ صوبے میں پارٹی کی مقبولیت کس حد تک گر چکی ہے۔ نومنتخب ارکان میں ’’ملگاری وکیلان‘‘ نے پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنّوں میں اہم نشستیں حاصل کیں۔ پہلے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اب خیبر پختونخوا بار کونسل میں لگاتار شکستوں نے ظاہر کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی وکلاء برادری پر گرفت کمزور پڑ چکی ہے اور اس کے روایتی ووٹ بینک میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے انتخابات میں سپریم کورٹ بار کے حمایت یافتہ خیبر پختونخوا پی ٹی ا ئی کے بار ایسوسی بار کونسل
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔