پاکستان میں ہیلتھ کا بجٹ گیارہ سو 56 بلین روپے ہے، سید مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ریاض ہیلتھ کیئر لیڈرز فورم اور پاکستان ڈاکٹرز گروپ کی جانب سے تقریب میں سعودی عرب میں پاکستانی ڈاکٹرز سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کا بجٹ گیارہ سو 56 بلین روپے ہے ہماری کوشش ہے کہ میڈیکل کے شعبے میں اصلاحات لائیں جس سے پورے پاکستان کے لوگ بہتر انداز سے مستفید ہوسکیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے پاکستان ڈاکٹرز گروپ سعودی عرب کی کاوشوں کو سراہا کہ وہ سعودی عرب میں مقیم ہم وطنوں کو مفت طبی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں اورپاکستان میں ہیلتھ کے شعبے میں بہتری لانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ریاض سے وسیم خان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرکا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے ہمارا مقصد ہسپتالوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیماریوں سے بچاو کے حوالے سے اقدامات کرنا بھی ہے۔ تقریب میں دنیا بھر سے پاکستانی ڈاکٹرز، پروفیسرز اور ماہرین کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقعہ پر ڈاکٹر ذکی الدین احمد ، ڈاکٹر عادل حیدر، ڈاکٹر اسد رومی اور پاکستان ڈاکٹرز گروپ کے صدر ڈاکٹر شہزاد احمد نے دنیا بھر میں میڈیکل کے شعبے میں نئی جدت، تجربات، تحقیق اور طریقہ علاج سمیت دیگر امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا صحت مند معاشروں کو تشکیل دے رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے جدید میڈیکل سائنس کے اصولوں کو اپنایا جائے تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں بیماریوں سے پاک معاشرے میں زندگی بسر کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔