data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر کی گئی، جس میں سیکورٹی فورسز نے انتہائی مہارت کے ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ آپریشن کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے جب کہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد بلوچستان میں مختلف تخریبی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ علاقے میں کلیرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کو فرار ہونے کا موقع نہ ملے۔

فوجی ترجمان کے مطابق سیکورٹی فورسز عزمِ استحکام کے ویژن کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور انداز میں سرگرم ہیں اور یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان کو غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے قلات آپریشن میں دہشت گردوں کے خاتمے کو قومی سلامتی کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا اور سیکورٹی فورسز کے عزم و استقلال کو خراج تحسین پیش کیا۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قوم دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے، جب کہ آپریشن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تسلسل کو وطن کی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کے جوانوں اور افسران کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی پشت پناہی میں سرگرم چار دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا سیکورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سیکورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے بروقت کارروائی کرکے انڈین اسپانسرڈ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم ان کارروائیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور فتنہ الہندوستان کا عبرتناک انجام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یافتہ دہشت گرد سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار