افغانستان سے دراندازی ناکام‘ فورسز کی کارروائی میں 3 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-01-18
شمالی وزیرستان /ٹانک ( مانیٹرنگ ڈیسک) سیکورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، ہلاک ہونے والوں میں افغان سرحدی فورس کا اہلکار بھی شامل ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے 2 نومبر 2025 کو 2 علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کرتے ہوئے مؤثر اور کامیاب آپریشن کیے۔سیکورٹی فورسز نے کارروائیوں میں بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ پہلی کارروائی میں شمالی وزیرستان کے علاقے عیشام کے بالمقابل پاک افغان سرحد کے قریب ایک گروہ کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی جو سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، مؤثر اور درست نشانے پر مبنی فائرنگ کے نتیجے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن کا تعلق بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج سے تھا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق مارے جانے والے ایک دہشت گرد کی شناخت ‘‘خارجی قاسم’’ کے نام سے ہوئی جو افغان نژاد اور افغان بارڈر پولیس کا اہلکار تھا۔ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ضلع ٹانک میں سیکورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک اور دہشت گرد خارجی اکرام الدین عرف ابو دجانہ کو ہلاک کیا، جو افغان شہری تھا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ واقعات پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی مسلسل شمولیت کو ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کئی بار عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ سرحدی نظم و نسق کو مؤثر بنائے اور اپنی سرزمین کو خوارج یا دہشت گرد عناصر کے استعمال سے روکے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے علاقے میں آپریشن کلین اپ کا آغاز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کو تلاش کر کے ختم کیا جا سکے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی دراندازی ناکام بنانے پر سیکورٹی فورسز کو خراجِ تحسین کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پشت پناہی یا فتنہ الخوارج کو شکست دینا پاکستان کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے پر قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔دونوں رہنمائوں نے کہا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان ا ئی ایس پی ا ر فتنہ الخوارج کے مطابق
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز