کرک میں ہائی وے پر ناکہ بندی کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف سی ٹی ڈی اور پولیس کی کارروائی، 1 ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس نے کرک میں ہائی وے پر ناکہ بندی کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جس میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔
محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا کوہاٹ ریجن اور ڈسٹرکٹ پولیس کرک نے خفیہ اطلاع پر تخت نصرتی کے علاقے مدکی روڈ پر دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب مشترکہ کارروائی کی۔
سی ٹی ڈی کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں مسلح دہشت گردوں نے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور گزرنے والے مسافروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی سوات کی ٹیموں اور پولیس کی بھاری نفری نے فوری طور پر علاقے کا گھیراؤ کیا۔ پولیس کی موجودگی کا علم ہوتے ہی دہشت گردوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔
جس پر پولیس نے حقِ حفاظتِ خود اختیاری کے تحت مؤثر جوابی کارروائی کی۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ تقریباً پچیس منٹ تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔
بعد ازاں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کے دوران علاقے سے ایک کلاشنکوف، دو میگزین، ایک دستی بم اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے۔ پولیس نے موقع پر اضافی نفری طلب کرکے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے جبکہ فرار دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائی صوبے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جاری حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کی سی ٹی ڈی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک