تربت میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 29 غیرملکی شہری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
کوئٹہ (نمائندہ خصوصی )بلوچستان کے ضلع تربت میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مشترکہ کارروائی کے دوران انسانی اسمگلنگ کے اقدام کو ناکام بناتے ہوئے 29 غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا۔پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت افراد کو کسی ملک میں داخل ہونے یا وہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر رہنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف ملک کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس میں ملوث افراد کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کیچ کیپٹن زوہیب محسن نے ممتازنیوز کو بتایا کہ یہ کارروائی تربت کے نواحی علاقے میں کی گئی، جہاں ایک لینڈ کروزر کو روکا گیا جس میں درجنوں افراد سوار تھے۔انہوں نے بتایا کہ’ گرفتار ہونے والوں میں 12 مرد، 13 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں، دو ڈرائیوروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان افراد کو غیر قانونی راستوں کے ذریعے ایران لے جانے میں ملوث تھے۔’
ایس ایس پی زوہیب محسن نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گرفتار افغان شہری بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہو کر یورپ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔انہوں نے کہا، ’ تمام گرفتار افراد کو مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔’عہدیدار نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد مزید گرفتاریوں کی توقع ہے اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔