ریونیو میں اضافے کیلئے پی آئی اے کا ریاض ائیرکیساتھ تاریخی کارگو معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز ( پی آئی اے) نے سعودی عرب کی نئی فضائی کمپنی، ریاض ائیر کے ساتھ ایک اہم اور تاریخی کارگو معاہدہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ترجمان قومی ائیر لائن کے مطابق پی آئی اے اور ریاض ائیر کے مابین تاریخی کارگو معاہدے کے تحت، کارگو کو پاکستان اور لندن سے ریاض لایا جائے گا، جہاں سے دونوں ائیر لائنز کے نیٹ ورک کے ذریعے سامان کو منزل مقصود تک پہنچایا جائے گا۔
ترجمان پی آئی اے کا بتانا ہے کہ یہ معاہدہ آج 29 اکتوبر سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہے جس کا بنیادی مقصد پی آئی اے کے کارگو آپریشن کو وسعت دینا اور ادارے کے ریونیو میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔
ایک دن میں تاریخی کمی کے بعد سونے کی قیمت میں 3500روپے کا اضافہ
پی آئی اے ترجمان کا بتانا ہے کہ یہ معاہدہ فضائی کارگو کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ پی آئی اے کی مضبوط کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی آئی اے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔