پاک برطانیہ ماحولیاتی تبدیلی تعاون کے منصوبے پر معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان اور برطانیہ کے مابین ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کے منصوبے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔وفاقی وزیر مصدق ملک اور برطانیہ کی عزیر ڈویلپمنٹ نے تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے۔
معاہدے کے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شعبے میں پاکستان اور برطانیہ کئی سالوں سے تعاون کر رہے ہیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے بہت برے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 4700 افراد سیلابوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 17ہزار افراد زخمی یا معذور ہوئے، سیلابوں سے 40ملین افراد بے گھر ہوئے، سیلابوں سے جو نقصان ہوا ہے وہ ہمارے جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ ہے۔
مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان اور برطانیہ موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کر رہے ہیں۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کی وزیر پلاننگ نے کہا کہ یو کے پاکستان گرین کمپیکٹ معاہدہ ماحولیات کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے، ہم چاہتے ہیں دونوں ممالک اس پروگرام کے تحت مل کر کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد دونوں ممالک کے لوگوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی اور برطانیہ
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔