افغانستان: ایک ہی گھر کے 13 افراد کے قاتل کو سرعام سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان کے صوبے خوست میں ایک ہی گھر کے 13 افراد قتل کرنے والے مجرم کو اسٹیڈیم میں 80 ہزار لوگوں کے سامنے سزائے موت دے دی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق خوست کے اسٹیڈیم میں یہ سزا اس وقت دی گئی جب اسٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مجرم نے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 13 افراد کو قتل کیا تھا جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ طالبان انتظامیہ نے مقتولین کے لواحقین کی درخواست پر 13 سالہ لڑکے سے فائرنگ کروا کر قاتل کو انجام تک پہنچایا۔ طالبان کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ لواحقین نے قاتل کو معاف کرنے سے صاف انکار کردیا تھا جس کے بعد اسلامی قانون کے مطابق اسے سزائے موت دی گئی۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرعام سزائے موت دینا عالمی قوانین کے منافی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سزائے موت
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔