امریکی فورسز نے نومبر میں ایک کارگو جہاز پر کارروائی کی جو چین سے ایران جا رہا تھا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے جارحانہ بحری حربوں کی تازہ ترین مثال ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے جہاز کو سری لنکا سے کئی سو میل دور بورڈ کیا۔ یہ کئی سال بعد پہلی مرتبہ تھا کہ امریکا نے چین سے ایران جانے والے کارگو پر اس طرح کارروائی کی۔

#BREAKING:

The Wall Street Journal reports that U.

S. forces intercepted a ship in the Indian Ocean last month, confiscated Chinese military equipment reportedly headed to Iran, and then permitted the vessel to continue sailing. pic.twitter.com/JPqbsy51qw

— Intel Net (@TheIntelNet) December 13, 2025

الجزیرہ کے مطابق جہاز سے وہ مواد ضبط کیا گیا جو ایران کے روایتی ہتھیاروں کے لیے استعمال ہو سکتا تھا، تاہم یہ مواد دوہرے استعمال کا تھا یعنی فوجی اور شہری دونوں کاموں کے لیے قابل استعمال تھا۔ بعد میں جہاز کو روانہ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے غیر قانونی ایندھن سے بھرا تیل بردار جہاز قبضے میں لیا، عملے میں بھارتی بھی شامل

یہ کارروائی وینزویلا کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز کی حالیہ ضبطگی سے کچھ ہفتے قبل ہوئی، جسے امریکی انتظامیہ نے پابندیوں کی خلاف ورزی کا جواز بتاتے ہوئے کنٹرول کیا۔

BREAKING: Multiple outlets now confirm U.S. special forces intercepted and boarded a ship headed from China to Iran, seizing military-related cargo in the Indian Ocean.

Not rumor. Not speculation. Real interdiction.#BreakingNews #NationalSecurity #Iran #China #USMilitary pic.twitter.com/zPdIDw6C5Y

— Bill Postmus (@billpostmus) December 13, 2025

اس کے علاوہ، ایران نے بھی خلیج عمان میں ایک جہاز پر قبضہ کیا ہے، جس میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے عملے کے ارکان سوار تھے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ جہاز غیر قانونی ایندھن لے کر جا رہا تھا۔

چین اور ایران نے ابھی تک اس کارروائی پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم بیجنگ نے وینزویلا کے قریب تیل بردار جہاز کی ضبطگی کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا کہ مستقبل میں وینزویلا کے قریب مزید جہاز ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران بحری جہاز بحیرہ چین چین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران بحری جہاز بحیرہ چین چین

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی