ایران نے غیر قانونی ایندھن سے بھرا تیل بردار جہاز قبضے میں لیا، عملے میں بھارتی بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ایران نے خلیج عمان میں ایک تیل بردار جہاز کو قبضے میں لیا ہے جس میں 6 ملین لیٹر غیر قانونی ڈیزل موجود تھا۔ جہاز کے عملے میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے 18 افراد شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فورسز کی کمانڈو کارروائی، وینزویلا کے تیل بردار جہاز پر قبضے کی ویڈیو وائرل
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق یہ جہاز ہرمزگان صوبے کے ساحل کے قریب سوار کیا گیا اور جہاز کے تمام نیویگیشن سسٹمز معطل تھے۔ ایرانی فورسز اکثر خلیج میں ایسے جہازوں کی اطلاع دیتی ہیں جو غیر قانونی طور پر ایندھن لے جا رہے ہوں۔
ایران میں ریٹیل ایندھن کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں، جس کی وجہ سے اسے دیگر ممالک میں اسمگل کرنا انتہائی منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔ یہ گرفتاری اس سے 2 دن بعد سامنے آئی ہے جب امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز ضبط کیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ضبط شدہ جہاز کا کپتان وینزویلا اور ایران سے تیل منتقل کر رہا تھا، جبکہ 2022 میں امریکی خزانہ نے وینزویلا پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور حزب اللہ سے تعلقات کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل ٹینکر ایران خلیج عمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئل ٹینکر ایران خلیج عمان تیل بردار جہاز
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔