’فیض حمید ریٹائرڈ منٹ کے بعد خفیہ دستاویز اپنے ہمراہ گھر لے گئے‘
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ملٹری کورٹ سے 14 سال قید کی سزا پانے والے ریٹائرڈ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر ریٹائرمنٹ کے بعد خفیہ سرکاری دستاویزات رکھنے کا بھی الزام ہے، جو انہوں نے بغیر اجازت اپنے پاس رکھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق سابق فیض حمید کے خلاف 4 الزامات پر مقدمہ چلایا گیا، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، سرکاری راز کے قانون کی خلاف ورزی جو ریاستی سلامتی کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو غیر قانونی نقصان پہنچانا، شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ دستاویزات رکھنے کا الزام سرکاری راز کے قانون کے تحت ہے، اور یہ دستاویزات ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے قبضے میں تھیں، جنہیں رکھنے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔ سیاسی سرگرمیوں کے الزام کا تعلق سابق جنرل کے سیاسی شخصیات سے روابط سے ہے، جن میں زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان شامل تھے۔
اس کے علاوہ سابق جنرل پر ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر کے پیسہ وصول کرنے کا بھی الزام تھا۔ اس کیس کی بنیاد ہاؤسنگ سوسائٹی کے موجودہ چیف ایگزیکٹو کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست تھی۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفاتر اور مالک کے گھر پر چھاپہ مارا اور سونا، ہیرے، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء قبضے میں لیں، اور سابق جنرل نے شکایت کنندہ سے یہ اشیاء واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معافی کی اپیل؟ عمران خان کے فوجی ٹرائل پر سوالات؟
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سابق جنرل کے قریبی رشتہ دار اور آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئرز نے شکایت کنندہ پر دباؤ ڈال کر 4 کروڑ روپے نقدی اور نجی ٹی وی نیٹ ورک کے چند ماہ کے لیے اسپانسرشپ کا مطالبہ کیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو متعلقہ فورمز، بشمول وزارت دفاع، سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس آئی انصار عباسی خفیہ دستاویز فیض حمید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس ا ئی خفیہ دستاویز فیض حمید فیض حمید کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔