آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ، سول بیوروکریٹس کے اثاثے چھپانا ناممکن بنانے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت پاکستان پر مزید سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جن کا مقصد معیشت میں شفافیت، بدعنوانی کی روک تھام اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
نئی شرائط میں سول بیوروکریسی کے اثاثوں کا لازمی ڈیکلریشن، چینی اور گندم کے شعبوں کی ڈیریگولیشن اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق خطرات کی تفصیلی رپورٹ کی اشاعت شامل ہے۔
آئی ایم ایف نے بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کو بڑھانے کے لیے دی جانے والی مراعات پر بھی ایک جامع رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ریمیٹنسز میں اضافے کے لیے موجودہ پالیسی کس حد تک مؤثر ہے۔ فنڈ کا مؤقف ہے کہ ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے نظام کو شفاف اور محفوظ بنانا ناگزیر ہے۔
بدعنوانی کے خلاف ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت نے اثاثہ جاتی ڈیکلریشن کے نظام میں ترامیم پر کام شروع کر دیا ہے، جو جون 2025 کی ساختی شرط کا حصہ ہیں۔ ان ترامیم کے بعد دسمبر 2026 کے اختتام تک اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثے سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے تاکہ عوامی نگرانی کو ممکن بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس اقدام کا دائرہ کار بعد ازاں اعلیٰ صوبائی سول سرونٹس تک بھی بڑھایا جائے گا جبکہ بینکوں کو ان اثاثہ جاتی تفصیلات تک مکمل رسائی دی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ اس سے غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی نشاندہی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔
اداروں کی سطح پر کیے گئے رسک اسیسمنٹ کے بعد نیب کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان 10 سرکاری اداروں کے لیے الگ الگ ایکشن پلان تیار کرے جن میں بدعنوانی کے خطرات سب سے زیادہ پائے گئے ہیں۔ ان ایکشن پلانز کے تحت اصلاحاتی اقدامات، نگرانی کے نظام اور احتسابی طریقہ کار کو مضبوط کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد سے نہ صرف مالیاتی نظام مستحکم ہوگا بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ پاکستانی حکام نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قومی خطرات کی تشخیص کو اپڈیٹ کرنے اور مارچ 2026 کے آخر تک اسے عوام کے سامنے لانے کا وعدہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ رسک بیسڈ اے ایم ایل نگرانی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس میں خاص طور پر رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، زیورات اور قیمتی پتھروں و دھاتوں کے تاجروں کی کڑی نگرانی شامل ہوگی، کیونکہ ان شعبوں کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے۔
ایس ای سی پی کے تحت بینیفیشل اونرشپ رجسٹر کو بھی جنوری 2026 کے اختتام تک مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ رسائی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کمپنیوں کے اصل مالکان کی شناخت کو شفاف بنانا ہے تاکہ کاغذی کمپنیوں کے ذریعے غیر قانونی لین دین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تجارتی منی لانڈرنگ کے میکرو اکنامک اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات پر مزید کام کیا جائے، تاکہ معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف منی لانڈرنگ کے لیے جا سکے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :