اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ہر انسان کی عزت، آزادی اور مساوات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، موجودہ دور کے سماجی، معاشی اور ٹیکنالوجیکل چیلنجز کے باوجود عدلیہ پوری توجہ کے ساتھ قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انصاف ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی اور بروقت ہونا چاہیے، عدالتی اصلاحات کا مقصد عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور ان رکاوٹوں کو کم کرنا ہے جو خاص طور پر کمزور اور محروم طبقات کو اپنے حقوق کے حصول سے روکتی ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال، ججوں کی تربیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنا کر عدالتی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، ایسا نظام جو بلا خوف و رعایت انصاف فراہم کرے۔چیف جسٹس نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ صرف عدالتوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جو آئینی وڑن اور قومی اقدار کا اہم حصہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چیف جسٹس

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن