بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں، سابق سینیٹر مشتاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-11
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے دسمبر کے مہینے میں رات 2 بجے عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن سے حملہ،سڑک یر گرانا،پتھر پھینکنا اور تشدد کو بدترین فسطائیت، حکومتی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بزرگ خواتین پر بدترین تشدد سے ثابت ہوا یہ حکومت اور اس کے سرپرست ذہنی مریض ہیں، بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں پر کیے گئے تشدد کے حوالے سے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ دسمبر کے مہینے میں رات کے 2 بجے اڈیالہ جیل کے سامنے اپنے بھائی کی ملاقات کیلیے آئے نہتے بزرگ خواتین پر بدترین تشدد سے ثابت ہوگیا کہ یہ حکومت اور اس کے سرپرست ذہنی مریض ہیں،عمران خان کی بہنوں کا اپنے بھائی سے ملاقات کا مطالبہ ایک آئینی، قانونی انسانی حقوق پر مبنی مطالبہ ہے،عمران خان کی بہنوں ہر واٹر کینن سے حملہ کرنا،سڑک یر گرانا،پتھر پھینکنا اور تشدد کرنا بدترین فسطائیت اور حکومتی دہشتگردی ہے،بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں، ظلم اور جبر کیخلاف جدوجہد میں عمران خان اور ان کے خاندان کا ساتھ دیتا رہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی بہنوں سینیٹر مشتاق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :