مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ، ایم ایل اے معراج ملک کی نظربندی کے خلاف عرضداشت کی سماعت 18دسمبر تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سینئر ایڈوکیٹ راہول پنت، ایڈوکیٹ ایس ایس احمد اور دیگر نے معراج ملک کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور ان کی نظربندی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ میں غیر قانونی طور پر نظربند ڈوڈہ کے ایم ایل اے معراج ملک کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست پر مزید سماعت 18دسمبر تک ملتوی کر دی۔ ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد یوسف وانی معراج ملک کی درخواست پر سماعت کی۔ سینئر ایڈوکیٹ راہول پنت، ایڈوکیٹ ایس ایس احمد اور دیگر نے معراج ملک کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور ان کی نظربندی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے اپنے دلائل میں ان کی نظر بندی کی وجوہات پر تنقید کی اور اسے انتظامی حد سے تجاوز اور ایک منتخب عوامی نمائندے کی اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مقدمے پر سماعت 18دسمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: معراج ملک کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔