تیونس؛ 40 اپوزیشن رہنماؤں کو 45 سال تک قید کی سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
تیونس میں اپوزیشن رہنماؤں اور مخالف میڈیا شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کی ایک اپیل کورٹ نے 40 اپوزیشن رہنماؤں، بزنس مین اور میڈیا شخصیات کو 5 سے 45 سال تک قید کی سزا سنا دی۔
جن افراد کو یہ سزا سنائی گئی ان میں سے 20 افراد بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی۔
تیونس میں ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش کے نام سے مشہور مقدمہ ایک بار پھر عالمی تنقید کی زد میں ہے۔
حقوقِ انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سنگین بے ضابطگیوں، شفافیت کی کمی اور عدالتی امور میں حکومت کی مداخلت سے بھرپور ہے۔
جن سیاسی رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی ان میں خیام ترکی، جوہر بن مبارک، عصام شبعی، غازی شواعشی، رضا بلحاج اور عبدالحمید جلاصی جیسے چوٹی کے اپوزیشن رہنما شامل ہیں۔
علاوہ ازیں نورالدین بحیری، صاحبی عتیق اور سعید الفرجانی کو بھی قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔
جن 20 جلا وطن سیاسی رہنماؤں کو عدالت نے عدم موجودگی میں سزائیں سنائی ان میں سب سے نمایاں نام انسانی حقوق کی کارکن بشرہ بلحاج حمیدہ کا ہے جنھیں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قید کی سزا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک