data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برازیلیا: برازیل کی سپریم کورٹ نے منگل کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق صدر جائر بولسونارو کو ہدایات دی ہیں کہ وہ ناکام بغاوت کی سازش کے جرم میں سنائی گئی 27 سالہ سزا کا اطلاق شروع کریں، کیونکہ عدالت نے تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں۔

برازیل میں دائیں بازو کو متحرک اور ملک کی سیاست کو بدل دینے والے سابق بے باک فوجی کپتان ایک متنازعہ کیریئر کے اختتام پر پولیس ہیڈکوارٹر کے ایک چھوٹے کمرے میں قید ہیں، جس میں ٹی وی، منی فرج اور ایئر کنڈیشن موجود ہے۔70 سالہ بولسونارو کو ستمبر میں 2022 کے انتخابات کے بعد لوئز اناسیو لولا دا سلوا کو صدر بننے سے روکنے کی سازش کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس میں اس منصوبے کے تحت تجربہ کار بائیں بازو کے رہنما کو قتل کرنے کی سازش بھی شامل تھی۔

سپریم کورٹ نے اس ماہ کے شروع میں ان کی سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کر دیا اور فیصلہ حتمی قرار دیا، عدالت نے فوجی ٹربیونل کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ بولسونارو سے ان کا کپتان کا رینک واپس لیا جائے یا نہیں۔

بولسونارو ہفتہ کو پولیس ہیڈ کوارٹرز میں قید کیے جانے سے قبل تک گھریلو حراست میں تھے، کیونکہ انہوں نے اپنے پاؤں میں موجود نگرانی کے آلے میں سولڈرنگ آئرن سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی مورائس نے کہا کہ ایسے اشارے ملے کہ بولسونارو اپنے بیٹے کی طرف سے ان کے گھر کے باہر منعقدہ نگرانی کے دوران فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی سازش

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ