ق لیگ کی بلوچستان میں بڑی کامیابی، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا شمولیت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کوئٹہ:
مسلم لیگ (ق) کو بلوچستان میں بڑی کامیابی مل گئی، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی، پشتخواہ ملی پارٹی کے عہدے دار مسلم لیگ ق میں شامل ہوئے ہیں، مسلم لیگ ق نے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کو ٹکٹ بھی جاری کردیے۔
پارٹی کے مرکزی ترجمان مصطفیٰ ملک نے شمولیتی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ ق لیگی رہنماء نعمت خلجی، شکور مری، رفیع اللہ اچکزئی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر علی عادل، بشیر اچکزئی، مدثر ایڈووکیٹ، حاجی ندا درانی بھی تقریب میں شامل تھے۔
مسلم لیگ بلوچستان نے چوہدری شجاعت حسین کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے،پاکستان دشمن بلوچستان میں عدم استحکام چایتے ہیں، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، حکومت، سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کی ترقی کے لیے یکسو ہیں۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری کا خاتمہ، امن کی بحالی اول ترجیح ہونی چاہیے،مسلم لیگ ڈائیلاگ کی حامی ہے مگر ملک دشمنوں کو کسی رعایت کی مستحق نہیں سمجھتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں مسلم لیگ
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔