مقبوضہ کشمیر میں اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر سیاسی جماعتوں کی بی جے پی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی ایسے اداروں میں مذہبی تعصب پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہیں غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی رہنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتوں نے ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں صرف ہندوئوں کو داخلہ دینے کے مطالبے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشہ ورانہ اداروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ردعمل میرٹ پر غیر ہندو امیدواروں کے لئے ایم بی بی ایس کی 42 نشستیں مختص کرنے پر اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی قیادت میں بی جے پی کے ایک وفد کی طرف سے احتجاج کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ بی جے پی پر پوری وادی میں شدید تنقید کی جا رہی ہے اور پارٹیوں نے خبردار کیا ہے کہ بی جے پی کی تقسیم کی سیاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو فرقہ وارانہ انتشار کی طرف دھکیل رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ بی جے پی ایسے اداروں میں مذہبی تعصب پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جنہیں غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ اداروں کو فرقہ وارانہ بناتے ہیں، تو آپ صرف سیاست نہیں کر رہے ہوتے بلکہ معاشرے کو تقسیم کر رہے ہوتے ہیں، اگر ہسپتال، اسکول اور میڈیکل کالج عقیدے کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگے تو ہم کیسا ملک بنیں گے؟
تنویر صادق نے بی جے پی کے مطالبے کو گمراہ کن اور خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مقدس مقام کے فنڈز سے چلنے والا ادارہ مذہبی ادارہ نہیں بنتا۔ بی جے پی براہ کرم ہمارے اداروں کو مذہب کا میدان جنگ نہ بنائے۔ انہوں نے کہا آپ ایک ٹائم بم لگا رہے ہیں جو ایسی تقسیم پیدا کرے گا جسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر سکے گا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے کہا کہ یہ تنازعہ”نیا کشمیر” کی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اب تعلیم تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ مسلم دشمن نسل پرستی بھارت کے واحد مسلم اکثریتی علاقے میں کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے وفد نے ایل جی سے ملاقات کے دوران دعوی کیا کہ بڑی تعداد میں غیر ہندو امیدواروں کے داخلے سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
تاہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا موقف مقبوضہ جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر اداروں کی تشکیل نو کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے تاکہ میرٹ، مساوات، اور تعلیم کے سیکولر کردار کو مجروح کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ داخلوں میں مذہبی امتیازات مسلط کرنے کی کوشش مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو فرقہ وارانہ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اداروں کو نے کہا کہ کی کوشش رہی ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
ویب ڈیسک : آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کےگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائےگا۔
I’m grateful to the AJK PPP for their efforts & the election commission of AJK for their intervention. I’m hearing internet and digital connectivity will be restored in Mirpur AJK soon. I’m hopeful our requests for Muzaffrabad and other areas are also accepted as soon as…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
Ansa Awais Content Writer