راولپنڈی: سیف سٹی منصوبے کے ذریعے ای چالان شروع، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
ایس ایس پی سیف سٹی پروجیکٹ راولپنڈی رانا عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ سیف سٹی منصوبے کے ذریعے ای چالاننگ شروع کر دی ہے، سیف سٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی شامل ہے، راولپنڈی میں 600 کے قریب ای چالان جاری ہو چکے ہیں۔
ایس ایس پی سیف سٹی پروجیکٹ رانا عبدالوہاب نے راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ضلع راولپنڈی میں 2100 کیمرے نصب کیے گئے ہیں، سیف سٹی کے ذریعے کرائم ڈیٹیکشن اور ٹریفک ریگولیٹ ہو رہا ہے، اسموگ کنٹرول کے لیے بھی سیف سٹی کیمرے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چار تحصیلوں میں ایئرکوالٹی انڈیکس کے ڈیوائسز بھی لگائے ہیں، سیف سٹی کیمرے 359 مقامات پر نصب کیے گئے ہیں، سیف سٹی منصوبہ ٹریفک کے نظام کو مددگار ثابت ہو رہا ہے، سیف سٹی منصوبے سے ہر قسم کی ٹریفک وائلیشنز مانیٹر ہو رہی ہے۔
رانا عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ سیف سٹی منصوبہ 24 گھنٹے آپریشنل رہے گا، راولپنڈی میں اب ٹریفک وائلیشن کے چالان شہریوں کو ان کے گھروں پر بھیجیں گے، فیک نمبر پلیٹ پر اب مقدمات کا اندراج بھی کیا جا رہا ہے، سیف سسٹم میں چالان جاری کرنے سے قبل اس کی چھان بین کی جاتی ہے، ای چالاننگ ادائیگی کے لیے 10 دن کا ٹائم فریم دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی سیف سٹی پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 41 سیف سٹی منصوبے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک ہیں، سیف سٹی کیمرے 19 سے زائد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیف سٹی منصوبے راولپنڈی میں
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔