کراچی، بیشتر سگنل غیر فعال ہونے سے ای چالان سسٹم میں مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کراچی میں خود کار ٹریفک چلانے والے سوا ارب کے 400 جدید سگنلز کی ضرورت ہے، پیر محمد شاہ
کراچی میں بیشتر سگنل غیر فعال ہونے سے ای چالان سسٹم میں مشکلات کا سامنا ہے اس حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ شہر میں 89 ٹریفک سگنلز میں سے صرف 69 کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سوا ارب روپے مالیت کے 400 جدید سگنلز کی ضرورت ہے، نئے منصوبے میں خود کار ٹریفک چلانے والے 400 سگنلز لگیں گے۔پیر محمد شاہ کے مطابق اگر ممبئی کو دیکھا جائے تو ممبئی میں ایل ای ڈی لائٹس والے 569 جبکہ نئی دلی میں 2160 ٹریفک سگنلز کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک کنٹرول کرنے والا ایک جدید سگنل پی آئی ڈی سی پر لگایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔