خواتین پر تشدد کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا، ایسا عمل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ موقع پر موجود لوگوں سے باز پرس ہونی چاہیے، ان کا مؤقف بھی لینا چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں نے بانی چیئرمین کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ طے ہو کہ تشدد ہوا ہے یا نہیں، خواتین پر تشدد کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا، ایسا عمل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ اگر ملاقات نہیں ہونے دی گئی تو قانونی چارہ جوئی کریں، جس وجہ سے ملاقاتیں روکی گئی ہیں، اس کو عدالت میں غلط ثابت کریں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کی کوششوں پر ملاقاتیں روکی گئیں، پی ٹی آئی عدالت جائے اور وہاں مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ اگریہ الزم ہے تو اس کو عدالت میں غلط ثابت کریں، ملاقات کی اجازت مل جائے، دھرنا دینے کے بجائے عدالت میں جانا چاہیے، درخواست دائر کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔