چکلالہ کینٹ کے سابق امیدوار اور جماعت اسلامی کے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چکلالہ کینٹ راولپنڈی حلقہ 1 کے سابق امیدوار ملک دانش ممریز اعوان نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
اسی طرح جماعت اسلامی راولپنڈی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ذیشان ولایت ستی بھی درجنوں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نئیر بخاری سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باضابطہ طور پر پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیر مقدم کیا۔
نئیر بخاری کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک کے نوجوان قائد اور پاکستان کی امید ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نومبر پیپلز پارٹی کے قیام کا مہینہ ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنیادوں پر کھڑا کیا۔
جبکہ شہید بے نظیر بھٹو کے ایٹمی میزائل پروگرام نے پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیپلز پارٹی جماعت اسلامی چکلالہ کینٹ راولپنڈی نیئر حسین بخاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی جماعت اسلامی چکلالہ کینٹ راولپنڈی پیپلز پارٹی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔