امریکا کے مشہور زمانہ وائٹ ہاؤس کی گہماگہمی اس بار بہت مختلف تھی جہاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، صدر ٹرمپ کے مہمان بنے تھے۔

واشنگٹن میں ہونے والے اس شاندار سرکاری عشائیے نے نہ صرف سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچائی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی تہلکہ برپا کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے ایسٹرن روم میں پرتکلف عشائیہ دیا تھا۔

جس میں دنیا بھر کی مشہور ترین شخصیات ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئیں۔ لیکن اصل سرخی تب بنی ایک غیر معمولی سیلفی جس نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی۔

جب پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار اور سعودی کلب النصر کے کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی جیب سے فون نکالا اور ایک سیلفی لی۔

 اس سیلفی کو دنیا کی سب مہنگی سیلفی بھی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس تصویر میں امیر ترین شخصیات ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں۔

اس سیلفی میں سیاست، بزنس، ٹیکنالوجی اور کھیل کے بڑے بڑے نام ایک ہی فریم میں نظر آ رہے تھے۔ جن کی مجموعی دولت 700 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔

ایلون مسک اور امریکی وزیر تجارت سمیت کئی عالمی شخصیات شامل تھیں جب کہ پس منظر میں امریکی میرینز کا بینڈ اور وائٹ ہاؤس کی شاندار سجاوٹ نے حسن دوبالا کردیا تھا۔

یہ سیلفی جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ رونالڈو کی موجودگی پر صدر ٹرمپ نے ازراہ مذاق یہ بھی کہا کہ آپ نے آکر میرے بیٹے کی نظر میں میری عزت اور بڑھا دی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری