تعلیم، تحفظ اور نشوونما بچوں کا بنیادی حق، وزیر اظم کا عالمی چلڈرن ڈے پر خصوصی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بچوں کے عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ آج بچوں کے عالمی دن پر پاکستان بھرپور انداز میں دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر بچوں کی فلاح و بہبود، انکے حقوق اور انکی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔
2025 میں یہ دن ’میرا دن، میرے حقوق‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے ، جو بچوں کی ملکی، انفرادی اور اجتماعی سطح پر حقوق کی ادائیگی، نشوونما اور زندگی کے مسائل کی اہمیت پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے کینسر سے آگاہی کا عالمی دن: پی ایس ایل میچ میں خصوصی سرگرمیاں کیا ہوں گی؟
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ کسی بھی ریاست، ملک اور مجموعی طور پہ نوع انسانی کا مستقبل بچوں کے بطور نئی نسل تابناک مستقبل سے منسلک ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی سطح پرممالک کے درمیان بچوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بچوں کے حقوق میں ذہنی و جسمانی نشوونما، تحفظ اور تعلیم و تربیت کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، ان حقوق کی ادائیگی میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر موثر انداز اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک کے طول و عرض میں ہر ہونہار بچے کے لیے تعلیمی سہولیات میسر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اسی تناظر میں دانش سکول پراجیکٹ پر تیز رفتاری سے جاری کام قابل تحسین اور قابل اطمینان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟
ان کا مزید کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جاری بچوں کی نشوو نما کے لیے مالی معاونت کا پروگرام اور تعلیمی وظائف کا سلسلہ بھی قابل تعریف ہے۔ تاہم بحیثیت مجموعی مزید ہم آہنگی اور موثر حکمت عملی سے کام کرنے کی ضروت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان، معاشرہ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی سطح پر بچوں کی حقوق کی پرخلوص ادائیگی سے ہی معاشرے میں مثبت رحجانات جنم لیتے ہیں۔ بچوں کی بہترین اور عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم و تربیت میں ہی خوشحال اور پرامن مستقبل کی ضمانت پنہاں ہے.
وزیراعظم نے کہا کہ ہر بچےکوتعلیم کی دستیابی یقینی بنانا اور دستیاب تعلیم کو جدید دور سے ہم آہنگ اور جدید تکنیکی سہولیات سے استوار کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکومت نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کر رکھا ہے۔ جسکا مقصد سکول کی تعلیم سے محروم بچوں کے سکول میں داخلے کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مدرسہ اور اسکولوں کی بنیاد پر بچوں کی مردم شماری کرانے جارہے ہیں، وزیر تعلیم رانا سکندر
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے تعلیمی وظائف، طبی سہولتیں اور ہنر مند بنانے کے مخصوص مراکز ہر معاشرے کے بچوں کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے، حکومت پاکستان کی نہ صرف صوبائی حکومتوں کے ساتھ بلکہ عالمی سطح پر بھی بچوں کے لیے بہترین مواقع کی فراہمی کے لیے مشترکہ تعاون کے لیے کوشاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بچے پاکستان تحفظ تعلیم عالمی دن نشونما وزیراعظم شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے پاکستان تعلیم عالمی دن وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔