لاہور:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر کے کمرشل مراکز، شاپنگ مالز، پلازوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں کچرے کی علیحدہ علیحدہ تلفی لازمی قرار دے دی گئی۔

پنجاب ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عمران حامد شیخ کے مطابق ہر ادارے کو پانچ مختلف رنگوں کے ویسٹ بِن نمایاں مقامات پر نصب کرنا ہوں گے تاکہ کچرا موقع پر ہی الگ کیا جا سکے اور ری سائیکلنگ کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔

پیلا بِن صرف کاغذ، کارٹن اور پیکجنگ ویسٹ کے لیے ہوگا، سبز بِن میں شیشہ اور شیشے سے بنی اشیا جمع کی جائیں گی، سرمئی بِن آرگینک اور بائیوڈیگریڈیبل کچرے کے لیے مخصوص ہے، سرخ بِن میں ٹِن، المونیم اور دیگر دھاتیں رکھی جائیں گی جبکہ اورنج بِن پلاسٹک ویسٹ جیسے بوتلیں، ریپرز اور ڈسپوزیبل آئٹمز کے لیے مختص ہوگا۔

ڈی جی عمران حامد شیخ نے واضح کیا کہ غیر علیحدہ کچرا ویسٹ مینجمنٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے اور اس کے نتیجے میں شہر کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے سورس پر سگریگیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن اداروں نے ہدایات کی خلاف ورزی کی، ان کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی اور فیصلہ فوری نافذ العمل ہے۔

 ای پی اے کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف شہر کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ ویسٹ ری سائیکلنگ کے فروغ اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف خصوصاً ایس ڈی جی 11 اور 13 کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل