پنجاب: کمرشل مقامات پر پانچ مختلف رنگوں کے کچرے کے ڈبے رکھنا لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر کے کمرشل مراکز، شاپنگ مالز، پلازوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں کچرے کی علیحدہ علیحدہ تلفی لازمی قرار دے دی گئی۔
پنجاب ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عمران حامد شیخ کے مطابق ہر ادارے کو پانچ مختلف رنگوں کے ویسٹ بِن نمایاں مقامات پر نصب کرنا ہوں گے تاکہ کچرا موقع پر ہی الگ کیا جا سکے اور ری سائیکلنگ کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔
پیلا بِن صرف کاغذ، کارٹن اور پیکجنگ ویسٹ کے لیے ہوگا، سبز بِن میں شیشہ اور شیشے سے بنی اشیا جمع کی جائیں گی، سرمئی بِن آرگینک اور بائیوڈیگریڈیبل کچرے کے لیے مخصوص ہے، سرخ بِن میں ٹِن، المونیم اور دیگر دھاتیں رکھی جائیں گی جبکہ اورنج بِن پلاسٹک ویسٹ جیسے بوتلیں، ریپرز اور ڈسپوزیبل آئٹمز کے لیے مختص ہوگا۔
ڈی جی عمران حامد شیخ نے واضح کیا کہ غیر علیحدہ کچرا ویسٹ مینجمنٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے اور اس کے نتیجے میں شہر کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے سورس پر سگریگیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن اداروں نے ہدایات کی خلاف ورزی کی، ان کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی اور فیصلہ فوری نافذ العمل ہے۔
ای پی اے کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف شہر کا ماحول بہتر ہوگا بلکہ ویسٹ ری سائیکلنگ کے فروغ اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف خصوصاً ایس ڈی جی 11 اور 13 کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔